.

سپاہِ پاسداران انقلاب ایران کا تربیت یافتہ محمد علی الحوثی باغی لیڈر کیسے بنا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے حال ہی میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوّث یمن کے چالیس حوثی باغیوں کی ایک فہرست کا اعلان کیا ہے۔ان میں حوثی ملیشیا کے لیڈر اور عام ارکان شامل ہیں۔فہرست میں تیسرے نمبر پر حوثی کمانڈر محمد علی الحوثی کا نام ہے اور اس کے سر کی قیمت دو کروڑ ڈالرز مقرر کی گئی ہے۔

محمد علی الحوثی 1975 میں یمن کے شمالی صوبے صعدہ میں پیدا ہوا تھا ۔ وہ 2000ء کے عشرے کے اوائل میں کسی وقت ایران چلا گیا تھا اور اس نے 2004ء میں سپاہ پاسداران انقلاب ایران میں شمولیت اختیار کی تھی لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ وہ ایران میں کتنے سال تک مقیم رہا تھا اور وہاں عسکری تربیت کے علاوہ اور کیا کیا کرتا رہا تھا۔

ایران سے جب وہ تربیت پاکر یمن لوٹا تو اس کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔کئی سال کی قید کے بعد جب وہ رہا ہوا تو ا س نے ’’ انقلابی کمیٹیوں‘‘ کے پُر فریب نام پر حوثی ملیشیا کو منظم کیا ۔ان کمیٹیوں کو یمن میں ستمبر 2014ء میں منتخب حکومت کے خلاف مسلح بغاوت کے بعد تمام سرکاری اداروں اور شہریوں کی روزمرہ زندگی کو کنٹرول کرنے کی ذمے داری سونپی گئی تھی۔

محمد علی الحوثی کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ 2004ء سے 2009ء تک یمن میں جیل میں قید رہا تھا ۔یہی وہ عرصہ ہے جب حوثی باغیوں نے صعدہ میں معزول صدر علی عبداللہ صالح کی سابق حکومت کے خلاف مسلح بغاوت برپا کردی تھی اور یمنی فوج کے خلاف چھاپا مار جنگ لڑی تھی۔

ذرائع کے مطابق یمنی حکام کو یقین ہے کہ وہ ایران اور حوثیوں کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنا تھا۔بعض حوثی باغیوں کے مطابق محمد علی المعروف ابو احمد حوثی تحریک کے عسکری ونگ کا انچارج تھا اور اس نے ان کی صنعاء میں صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کے خلاف بغاوت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔اس کے بعد اس کو انعا م میں انقلابی کمیٹیوں کی قیادت سونپ دی گئی تھی۔

معزول صدر علی عبداللہ صالح کے ایک قریبی صحافی محمد الصوفی کا کہنا ہے کہ محمد علی الحوثی کے والد کے پاس امریکی شہریت بھی تھی۔ وہ 2016ء میں وفات پا گئے تھے۔تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ آیا محمد علی الحوثی بھی امریکی شہریت کا حامل ہے یا نہیں۔البتہ انھوں نے بتایا ہے کہ اس کا خاندان امریکا میں ایک چھوٹی کمپنی کا مالک ہے۔

محمد علی الحوثی صنعاء میں اپنی خفیہ کمین گاہ سے باہر نکل  رہا ہے۔
محمد علی الحوثی صنعاء میں اپنی خفیہ کمین گاہ سے باہر نکل رہا ہے۔