ایک حیرت انگیز حقیقت: چیونٹیوں نے انسانوں سے پہلے ہی سماجی فاصلہ اختیار کر لیا تھا!
چند سال پہلےجب کورونا کی وبا دنیا بھر میں پھیلی تو انسانوں نے بیمار افراد کے ساتھ رابطے سے بچنے انفیکشن کو پھیلنے سے روکنے اور بیماری کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے کے لیے سماجی فاصلے کے اصول اپنائے۔
انہوں نے دفاتر اور بینکوں میں ملازمین اور صارفین کے درمیان شفاف رکاوٹیں قائم کیں، گھر سے کام کرنے کا نظام بنایا، بند حلقوں کے ذریعے تعلیم کے نظام قائم کیے اور عوامی مقامات پر ایسی نشانیوں کا سلسلہ عام کیا جو لوگوں کو یہ یاد دلاتی تھیں کہ ایک ہی جگہ پر کھڑے یا بیٹھے افراد کے درمیان کم از کم چھ فٹ کا محفوظ فاصلہ برقرار رکھیں۔
اپنے گھونسلوں میں انجینئرنگ تبدیلیاں
ایک حالیہ مطالعے نے ثابت کیا ہے کہ انسان وہ پہلے مخلوق نہیں ہے ،جس نے بیماریوں اور وباؤں کے دوران سماجی فاصلے کے اصول سیکھے، بلکہ بعض جانور فطری اور غریزی طور پر ایسی ہی سرگرمیاں اپناتے ہیں جب کسی وبا یا بیماری کا سامنا ہوتا ہے۔
ابتدائی طور پر ذہن میں یہ خیال آ سکتا ہے کہ چمپانزی یا بابون وہ جانور ہیں، جو بیماری یا وبا کے دوران سماجی فاصلے کے اصول اپناتے ہیں، کیونکہ یہ ذہانت اور سماجی خصوصیات کے لحاظ سے انسان کے سب سے قریب ہیں۔ لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ایک برطانوی تحقیقی ٹیم نے دریافت کیا کہ چیونٹیاں بیماری کی صورت میں اپنے گھونسلوں میں انجینئرنگ تبدیلیاں کرتی ہیں تاکہ انفیکشن کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
وہ زیادہ کشادہ گھونسلے بناتی ہیں، مداخل اور خارجی راستے الگ فاصلے پر رکھتی ہیں اور ایک ہی گھونسلے کے اندر کمروں کو براہِ راست جوڑنے والے راستے نہیں بناتیں۔
برطانیہ کی یونیورسٹی آف برسٹول کے حیاتیاتی سائنس کے محقق لوک لی کی کے مطابق: ہم پہلے ہی جانتے تھے کہ چیونٹیاں کھدائی کے رویے میں کچھ عوامل جیسے مٹی کی نوعیت اور درجہ حرارت کے مطابق تبدیلی کرتی ہیں، لیکن یہ پہلی بار ہے کہ یہ واضح ہوا ہے کہ غیر انسانی مخلوقات اپنی رہائش گاہ کی ساخت میں ایسی تبدیلیاں کر سکتی ہیں تاکہ بیماری کے پھیلاؤ کو محدود کیا جا سکے۔
180 چیونٹیاں کا گھروں میں رکھنا
اس مطالعے کے سلسلے میں جو سائنسی جرنل Science میں شائع ہوا، تحقیقی ٹیم نے 180 چیونٹیاں ایسے گھروں میں رکھیں جن میں مٹی کی مقدار موجود تھی اور انہیں ایک دن کے دوران اپنا گھونسلہ بنانے کی اجازت دی گئی ،اس کے بعد ہر گھر میں مزید 20 چیونٹیاں شامل کی گئیں، جن میں سے 10 چیونٹیاں مخصوص پرجیویات مثلاً فنگس کے جراثیم سے متاثر تھیں۔
تحقیق کاروں نے چیونٹیوں کو چھ دن اور گھونسلہ بنانے دیئے اور اس دوران ساخت کی پیمائش کے لیے مائیکرو کمپیوٹر ٹوموگرافی کی تکنیک استعمال کی تاکہ زیر زمین گھونسلے کا تین جہتی نقشہ بنایا جا سکے۔
تحقیق کاروں نے پایا کہ متاثرہ چیونٹیوں والے گروپ کے گھونسلے میں کمرے زیادہ وسیع اور راہداری لمبی تھیں مداخل الگ فاصلے پر تھے اور مختلف کمروں کے درمیان کوئی براہِ راست راستہ نہیں تھا۔
لیکی نے سائنس کے تحقیقی ویب سائٹPopularScience میں وضاحت کی کہ یہ تمام انجینئرنگ تبدیلیاں انفیکشن کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے کی گئی ہیں اور یہ تحفظ فراہم کرتی ہیں خاص طور پر ان کمروں کے لیے جن میں خوراک یا چیونٹی کے لاروا محفوظ کیے جاتے ہیں۔
خودکار طور پر الگ ہونا
اس مفروضے کی تصدیق کے لیے تحقیق کاروں نے بیماری کے پھیلاؤ کی تین جہتی ماڈلز پر مبنی تجربہ کیا جو چھ دن بعد بیماری کے داخل ہونے کے بعد چیونٹیوں کے گھونسلوں کی عکاسی کرتے تھے، تجربے نے ثابت کیا کہ انجینئرنگ تبدیلیاں جو بیمار چیونٹیوں والے گروپ نے کیں ،واقعی بیماری کے پھیلاؤ کی شرح کو گھونسلے کے اندر کم کر دیتی ہیں۔
اگرچہ یہ تبدیلیاں بیماری کے پھیلاؤ پر محدود اثر ڈالتی ہیں، بیمار چیونٹیاں خود بخود خود کو الگ کر لیتی ہیں۔ لی کی کے مطابق محقق نے مزید کہا کہ تجربے نے یہ بھی ثابت کیا کہ جب گھونسلے کے اندر انفیکشن موجود ہو تو چیونٹیاں انجینئرنگ تبدیلیاں کرتی ہیں اور سماجی فاصلے کے اصولوں کا بھی بیک وقت خیال رکھتی ہیں تاکہ بیماری کے پھیلاؤ کو محدود کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ چیونٹیاں بیماری یا وبا کی صورت میں ہی گھونسلے اس انداز سے بناتی ہیں نہ کہ ہمیشہ کیونکہ انسانوں کی طرح انہیں ایسے گھونسلے یا رہائش کی ضرورت ہوتی ہے، جو معلومات کے تبادلے وسائل کی ترسیل اور ایک ہی کالونی کے افراد کے درمیان براہِ راست رابطے کی سہولت فراہم کریں۔
سابقہ سٹڈیز
یہ بھی قابل ذکر ہے کہ یونیورسٹی آف برسٹول میں ایک سابقہ مطالعے نے ثابت کیا کہ جیسے ہی چیونٹی کسی فنگس کے انفیکشن کا سامنا کرتی ہے، متاثرہ چیونٹی زیادہ وقت اپنے گھونسلے کے باہر گزارتی ہے تاکہ بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے اور غیر متاثرہ چیونٹیوں سے فاصلے میں اضافہ کرتی ہے تاکہ انفیکشن نہ پھیلے۔
یونیورسٹی آف برسٹول کی محقق نٹالی اسٹرویمائٹ نے تصدیق کی کہ چیونٹیاں فطری طور پر سماجی فاصلے کے اصولوں کو اپنے گھونسلوں کے تحفظ کے لیے استعمال کرتی ہیں اور انہوں نے نشاندہی کی کہ چیونٹیاں پر جیویات کے خلاف فوری اور مؤثر ردعمل پیدا کرتی ہیں اور یہ اقدامات ان کے گھونسلوں میں بیماری کے پھیلاؤ کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کر دیتے ہیں۔
اس کے علاوہ اسٹرویمائٹ نے کہا کہ انفیکشن کے پائے جانے کے چند گھنٹوں کے اندر سماجی ڈھانچے کی دوبارہ تنظیم کے ذریعے، چیونٹیاں بیماری کے گھونسلے کے دیگر افراد میں بڑھنے کے امکانات کو کم کر دیتی ہیں اور اس کے پھیلاؤ کے راستوں اور امکان کو قابو میں رکھتی ہیں کہ یہ رانی یا چھوٹے مزدور چیونٹیوں تک پہنچے، جس سے لمبے عرصے تک کالونی کی کامیابی اور بقا یقینی بنتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چیونٹیاں اپنے رویے میں تبدیلی کرتی ہیں اور کالونی کی بقا کو یقینی بنانے کے لیے قربانیاں دیتی ہیں اور یہ بالکل وہی ہے جو انسانوں نے وبا کے دوران کیا۔