.

میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر انسانیت سوز مظالم کے بہ کثرت شواہد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف سکیورٹی فورسز اور بدھ مت بلوائیوں کی تشدد آمیز کارروائیوں کے مزید ناقابل تردید شواہد سامنے آئے ہیں۔ان کے مطابق سکیورٹی فورسز کے اہلکار روہنگیا مسلمانوں کے گلے کاٹ رہے ہیں اور انھیں زندہ جلا رہے ہیں۔

امریکا میں قائم ہولو کاسٹ میوزیم اور جنوب مشرقی ایشیا میں قائم ’’حقوق کا تحفظ‘‘ (فورٹیفائی رائٹس) نامی تنظیم نے گذشتہ سال 9 اکوابر سے دسمبر اور اس سال 25 اگست کے بعد روہنگیا مسلمانوں کے خلاف برمی سکیورٹی فورسز کے منظم حملوں کی ایک تفصیلی رپورٹ مرتب کی ہے۔

30 صفحات کو محیط اس رپورٹ کا عنوان ’’ انھوں نے ہم سب کو قتل کرنے کی کوشش کی‘‘ ہے۔یہ برمی فورسز کے حملوں میں زندہ بچ جانے والے روہنگیا مسلمانوں، عینی شاہدین اور بین الاقوامی امدادی کارکنان کے 200 سے زیادہ انٹرویوز پر مبنی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ’’ میانمار کی سرکاری سکیورٹی فورسز اور (بدھ مت) شہریوں نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف حملوں کے دو ادوار میں انسانیت کے خلاف جرائم اور نسلی تطہیر کا ارتکاب کیا ہے اور اس بات کے بہ کثرت شواہد موجود ہیں کہ ان کارروائیوں کے ذریعے روہنگیا آباد ی کی نسل کشی کی گئی ہے‘‘۔

میانمار کی شمالی ریاست راکھین ( ارکان) سے اکتوبر 2016ء کے بعد سے قریباً سات لاکھ روہنگیا مسلمانوں کو جبری طور پر بے گھر کردیا گیا ہے اور وہ اپنا گھر بار چھوڑ کر پڑوسی ملک بنگلہ دیش کی جانب چلے گئے ہیں۔میانمار کی فوج نے تب پہلے سے ایک غیر معروف گروپ کے سکیورٹی فورسز پر حملوں کے ردعمل میں روہنگیا کے خلاف نسلی تطہیر کی کارروائی شروع کی تھی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’’سرکاری سکیورٹی فورسز نے روہنگیا شہریوں کے خلاف زمینی اور فضائی حملے شروع کردیے تھے۔انھیں بری فوج گولیوں سے چھلنی کررہی تھی تو فضائیہ اوپر سے بمباری کا نشانہ بنا رہی تھی۔فوجیوں اور چاقو بردار ( بد ھ مت) شہریوں نے روہنگیا مردوں ، عورتوں اور بچوں کو گلے کاٹ کاٹ کر موت کے گھاٹ اتار دیا‘‘۔

روہنگیا پر اجتماعی مظالم

اجتماعی مظالم کا یہ سلسلہ یہیں پر نہیں رُکا بلکہ روہنگیا مرد وخواتین،بوڑھے اور جوانوں کو زندہ جلایا جاتا رہا ہے۔ فوجیوں نے روہنگیا عورتوں اور لڑکو ں کی انفرادی اور اجتماعی عصمت ریزی کی۔مردوں اور لڑکوں کو اجتماعی طور پر گرفتار کیا گیا ہے اور کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ دونوں تنظیموں کے تحقیقات کاروں نے راکھین اور بنگلہ دیش اور میانمار کے درمیان واقع سرحدی علاقے کا دورہ کیا ہے۔انھوں نےاگست میں تین دیہات میں اجتماعی قتلِ عام سے متعلق عینی شاہدین کے بیانات ریکارڈ کیے ہیں۔

رپورٹ میں ایک جگہ برمی فوج کے سفاکانہ اور انسانیت سوز مظالم کی داستان ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے کہ ’’ جب روہنگیا کو اجتماعی طور پر موت کے گھاٹ اتارنے کا عمل مکمل ہوجاتا تو فوجی لاشوں کو ایک جگہ جمع کرتے اور پھر انھیں آگ لگا دیتے تھے۔برمی فوجیوں نے صرف ایک حملے میں سیکڑوں افراد کو ہلاک کردیا تھا‘‘۔

میانمار میں سکیورٹی فورسز کی روہنگیا مسلمانوں کے خلاف اس سفاکیت کے خلاف عالمی سطح پر بھی سخت ردعمل کا اظہار کیا جانے لگا ہے اور اس رپورٹ کے منظرعام پر آنے سے صرف ایک روز قبل امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ میانمار میں سکیورٹی فورسز اور بلوائیوں کے بڑے پیمانے پر مظالم سے متعلق قابل اعتبار رپورٹس موجود ہیں۔

انھوں نے میانمار میں گفتگو کرتے ہوئے حکام پر زوردیا کہ وہ ان الزامات کی آزادانہ تحقیقات کے مطالبے کو تسلیم کریں۔میانمار کی فوج اور اس کی سول لیڈر نوبل امن انعام یافتہ لیڈر آنگ سان سوچی روہنگیا مسلمانوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کے مظالم سے متعلق ان رپورٹس کو مسترد کرچکی ہیں۔ وہ اقوام متحدہ کے تحقیقات کاروں کو بھی نسل کشی کے الزامات کی تحقیق کے لیے ملک میں آنے کی اجازت دینے سے انکار کر چکی ہیں۔

حقوق کا تحفظ اور ہولو کاسٹ میوزیم نے رپورٹ میں لکھا ہے کہ ’’ اگر فوری طور پر کوئی اقدام نہیں کیا جاتا ہے تو ریاست راکھین اور میانمار کے دوسرے علاقوں میں بھی سکیورٹی فورسز کے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف مزید اجتماعی مظالم کا خطرہ موجود رہے گا‘‘۔