.

دہشت گردی مخالف بین الاقوامی اسلامی فوجی اتحاد کا مشترکہ کوششوں پر اتفاق: اعلامیہ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دہشت گردی مخالف عالمی اسلامی فوجی اتحاد کے جنرل سیکرٹری جنرل عبدالالہ بن صالح نے اتحاد کا مشترکہ اعلامیہ پیش کیا جس میں رکن ممالک کے وزرائے دفاع نے دہشت گردی کے خطرات سے بچائو اور اس سے نمٹنے کیلئے اتحاد و ؤیکجہتی کا پختہ عزم ظاہر کیا۔

اعلامیہ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کیلئے جامع حکمت عملی، منصوبہ بندی، منظم مشترکہ جدوجہد کا راستہ اپنایا جائے گا۔ نیز فرقہ وارانہ تنازعات کی آگ بھڑکانے والوں، انارکی ، فتنے اور ہنگامے برپا کرنے والوں کو لگام لگانے کی کوشش کی جائے گی۔

دہشت گردانہ افکار کی مزاحمت کی جائے گی۔ دہشت گردی کے خلاف میڈیا کو بھرپور طریقے سے استعمال کیا جائے گا۔ دہشت گردی کی فنڈنگ کو روکا جائے گا اور اس کے سوتے خشک کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ معلومات اور رپورٹوں کا تبادلہ ہو گا۔ فنی اور سلامتی امور کے سلسلے میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ یکجہتی پر بہت زیادہ زور دیا جائے گا۔ دہشت گردی کی فنڈنگ کا دائرہ تنگ کرنے کیلئے موثر قوانین و ضوابط پر توجہ مبذول کی جائے گی۔ وزرائے دفاع نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ دہشت گردوں کے خلاف عسکری کارروائی ہو گی۔ اتحادی ممالک دہشت گرد تنظیموں کو کمزور، جڑ سے اکھاڑ پھینکنے اور تانے بانے توڑنے کیلئے درکار فوجی طاقت فراہم کرنے کا اہتمام کریں گے۔

اس سلسلے میں رکن ممالک اپنے وسائل کے بقدر حصہ لیں گے۔ ہر ملک حصہ لینے نہ لینے کے سلسلے میں آزاد ہو گا۔ وزراء نے یہ بات تسلیم کی کہ اسلامی فوجی اتحاد کا مرکز عسکری جدوجہد میں ہم آہنگی پیدا کرنے کیلئے مطلوبہ کردار ادا کرے گا۔ عالمی اسلامی فوجی اتحاد کا صدر دفتر ریاض میں ہو گا۔

اعلامیہ کے مطابق سعودی عرب اس کی ضروریات پوری کرے گا۔ اس حوالے سے مطلوب قانونی وانتظامی تقاضے مکمل کرے گا۔ اسلامی فوجی اتحاد کے سربراہ اعلیٰ اتحاد کے جنرل سیکریٹری اور فوجی کمانڈر کا تقرر کریں گے۔ سینٹر کے داخلی نظام اور سالانہ بجٹ کی منظوری دیں گے۔ اسلامی فوجی اتحاد میں شامل وزرائے دفاع سالانہ اجلاس کریں گے۔ ضرورت پڑنے پر کسی بھی وقت اجلاس طلب کیا جا سکے گا۔