.

شامی حکومت کے وفد کی امن مذاکرات میں شرکت کے لیے جنیوا آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حکومت کا وفد اقوام متحدہ کے زیراہتمام امن مذاکرات کے آٹھویں دور میں شرکت کے لیے ایک رو ز کی تاخیر کے بعد بدھ کو جنیوا پہنچ گیا ہے۔وفد کی قیادت اقوام متحدہ میں شام کے سفیر بشار الجعفری کررہے ہیں۔

ادھر شام میں روس کی تجویز کردہ جنگ بندی پر دمشق کے نواح میں واقع علاقے مشرقی الغوطہ میں عمل درآمد کیا جارہا ہے۔ برطانیہ میں قائم شامی رصد گاہ برائے انسانی حقوق نے بھی سیز فائر کی عمومی پابندی کی تصدیق کی ہے۔ مشرقی الغوطہ میں واقع قصبے الدوما سے تعلق رکھنے والے ایک شہری کا کہنا تھا کہ ’’ آج ہم امن میں رہے ہیں‘‘۔

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے شام اسٹافن ڈی میستورا نے منگل کو ایک بیان میں کہا تھا کہ شامی حکومت نے مشرقی الغوطہ میں 28 اور 29 نومبر کو لڑائی روکنے سے متعلق روس کی تجویز منظور کر لی ہے۔

بدھ کی صبح صرف ایک گاؤں عین طرما میں جنگ بندی کی معمولی خلاف ورزی کی گئی ہے اور شامی فورسز نے وہاں پانچ گولے فائر کیے تھے ۔گذشتہ روز گولہ باری سے تین افراد ہلاک اور پندرہ زخمی ہو گئے تھے۔

دریں اثناء نے العربیہ نے ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ امریکا کے نائب معاون وزیر خارجہ ڈیوڈ سیٹر فیلڈ نے شامی حزب اختلاف پر زور دیا ہے کہ وہ جنیوا مذاکرات میں کرد گروپوں کو بھی اپنے ساتھ شامل کرے۔

جنیوا میں مذاکرات کے اس دور میں بھی شام میں جاری بحران کے حل کے لیے کسی نمایاں پیش رفت کی توقع نہیں ہے کیونکہ شامی حزب اختلاف اپنے اس مطالبے پر مُصر ہے کہ بشارالاسد اقتدار چھوڑ دیں جبکہ شامی صدر باغی گروپوں اور داعش کے خلاف حالیہ جنگی کامیابیوں کے بعد فتح کے نشے سے سر شار ہیں۔ وہ مسلح بغاوت کو طاقت کے ذریعے کچلنے کا سلسلہ برقرار رکھنا چاہتے ہیں اور صدارت چھوڑنے کو تیار نہیں۔