مافوق الفطرت انسان بنانے کے لیے باپ نے 18 برس بیٹی کو اذیّت دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

فرانس کی ایک معروف خاتون سائیکو تھراپسٹ نے اپنی سرگزشت پر مشتمل کتاب میں اُس تشدد اور ایذا رسانی کا ذکر کیا ہے جس کا سامنا اُسے بچپن میں اپنے باپ کے ہاتھوں کرنا پڑا۔ ساٹھ سالہ مودی جولین کے مطابق اس کے باپ نے یہ سب اس لیے کیا کہ وہ مودی کو ایک "مافوق الفطر" انسان بنانا چاہتا تھا۔

مودی کے مطابق آٹھ برس کی عمر میں اس کو ہفتے میں کم از کم دو مرتبہ بجلی کا کرنٹ والا تار چُھونے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ مودی کو زیادہ تر وقت گھر میں بند رکھا جاتا تھا جو شمالی فرانس کے ایک دُور دراز علاقے میں واقع تھا۔ اس کا باپ اکثر اوقات نشے میں دُھت رہتا تھا۔

اپنے بچپن کے الم ناک تجربے پر گفتگو کرتے ہوئے مودی کا کہنا ہے کہ اسے بہت دیر تک ایک پنجرے کے اندر چوہوں کے ساتھ رکھا جاتا تھا تا کہ وہ موت کے تجربے پر غور کرے۔ اس کے علاوہ مودی کا "دیوانہ" باپ اُسے وِہسکی پلا کر سیدھی لائن میں چلنے پر مجبور کرتا تھا۔ زیادہ شراب پینے کے سبب مودی کا جگر مشکل سے دوچار ہو گیا اور یہ مسئلہ ابھی تک باقی ہے۔

مودی کی ماں بھی ان کے ساتھ گھر میں رہتی تھی مگر اس کو اجازت نہیں تھی کہ وہ اپنی بیٹی کے قریب آئے۔ اس کے علاوہ مودی کو بھی بچپن میں کسی انسان کے ساتھ رابطہ نہیں کرنے دیا گیا۔

مودی کے مطابق اُس نے صرف اپنے ساتھ رہنے والے جانوروں سے ہمدردی اور پیار سیکھا۔ اس بارے میں مودی کا کہنا ہے اگر یہ جانور میری زندگی میں نہ ہوتے تو وہ آج زندہ نہ ہوتی۔

مودی جولین نے اپنی زندگی کے 18 برس اپنے باپ لوئس ڈائڈیر کی مسلط کردہ جہنّم میں گزارے۔ اس بات کا انکشاف مودی نے اپنی سرگزشت پر مشتمل کتاب میں کیا جس کا عنوان The Only Girl in the World ہے۔

مودی کے مطابق اس کے باپ کا خیال تھا کہ دنیا ختم ہونے کے قریب ہے لہذا وہ اپنی بیٹی کو تربیت دے تا کہ وہ بدی کے مزاحمتی تحریک کی قیادت کرے۔

مودی کے مطابق اس کے باپ نے اس کی ماں جینن کو چھ سال کی عمر میں گود لیا تھا اور پھر اسے پالا پوس کر اس سے شادی کر کے بیوی بنا لیا۔ جینن نے 1957 میں مودی کو جنم دیا۔

مودی نے یہ بھی بتایا کہ اُسے 3 سے 13 برس کی عمر کے دوران اپنے باپ کے ساتھ کام کرنے والے ایک ورکر کے ہاتھوں جنسی اذیت کا نشانہ بھی بننا پڑا۔

مودی کا کہنا ہے کہ اس نے کتابوں کے مطالعے کی لت اپنا کر اپنے علاج میں مدد کی۔ 1972 میں موسیقی کے ایک استاد آندرے مولن کو گھر آنے کی اجازت دی گئی تا کہ وہ مودی کو آکارڈییئن اور پیانو بجانے کی تربیت دے۔ موسیقی کی تعلیم کا یہ سلسلہ تین برس تک جاری رہا۔

مودی کی عمر جب 18 برس تھی تو اُس کے باپ نے بیٹی کو ایک موسیقار سے شادی کی اجازت دے دی جس سے مودی کی ملاقات موسیقی کے اسباق میں ہوئی تھی۔ مودی نے یہ موقع غنیمت جانا اور شادی کے بعد اپنے نوجوان شوہر کے ساتھ والد کی مسلط کردہ جہنّم سے ہمیشہ کے لیے بھاگ نکلی۔ مودی کا باپ 1981 میں 79 برس کی عمر میں فوت ہوا۔

بعد ازاں مودی نے دوبارہ شادی کی اور اس کی دو بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ اب وہ نانی بھی بن چکی ہے اور پیرس میں رہتی ہے۔ اس نے اپنے تلخ بچپن کی یادوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے بہت زیادہ علاج بھی کروایا۔ اب وہ خود نفسیاتی معالج بن چکی ہے۔

اپنی سرگزشت پر مبنی کتاب کو مودی ایک دہشت ناک تجربہ قرار دیتی ہے جو اسے الم ناک ماضی میں کھینچ کر لے گیا۔ مودی نے اپنی کتاب کی ایک کاپی اپنی ماں جینن کو بھی ارسال کی۔ کتاب ملنے پر جینن نے کوئی براہ راست تبصرہ نہیں کیا تاہم بعض ذرائع نے بتایا کہ اُس کی ماں خوف زدہ ہے اور مودی کی اس تحریر سے خوش نہیں ہے۔ اس لیے کہ وہ نہیں چاہتی تھی کہ مودی اس نوعیت کی کتاب لکھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں