یہود کی معروف شخصیات قطر کے دورے کیوں کررہی ہیں؟
یہود کے تین بڑے اور معروف رہ نماؤں ،کانفرنس برائے صدور کے میلکم ہونلین ، آرتھو ڈکس یونین کے ربی مینخم جینک اور امریکا میں مذہبی صہیونیت سے تعلق رکھنے والے مارٹین او لائنر نے حال ہی میں قطر کے دارالحکومت دوحہ کا دورہ کیا ہے۔
ان کے اس دورے سے قبل یہ اطلاع بھی منظرعام پر آئی تھی کہ قطر نے یہودی کمیونٹی تک رسائی کے لیے واشنگٹن میں قائم یہود کی تعلقات عامہ کی ایک لابی فرم کو بھاری رقوم ادا کی ہیں۔ اس فرم کی قطر کا امریکا کے ایک اتحادی ملک کے طور پر تشخص اجاگر کرنے کے لیے خدمات حاصل کی گئی ہیں۔
بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق ’’اسٹوننگٹن اسٹریٹجیز ‘‘ نامی اس فرم سے تعلق رکھنے والے نیک موذین کا کہنا ہے کہ امریکی یہودیوں اور قطر کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات یہودی کمیونٹی کے بہترین مفاد میں ہیں۔
معروف امریکی ربی شمولے بوٹیچ نے سرکردہ یہودی لیڈروں کے قطر کے دورے کی مذمت کردی ہے اور کہا ہے کہ’’ قطر بظاہر یہود کی دوستی کے حصول کے لیے کوئی تعمیری کردار ادا نہیں کرے گا بلکہ اس نے اس کے بجائے دنیا کے فی کس آمدن کے اعتبار سے امیر ترین ملک ہونے کے ناتے ایک نیا تشخص خرید کرنے کا فیصلہ کیا ہے‘‘۔
قطر کے خلاف یہ تنقید امریکا کی صہیونی تنظیم کے اپنے سالانہ پروگرام میں اسٹیو بینن کو مہمان مقرر کے طور پر مدعو کرنے کے بعد شروع ہوئی ہے۔ مسٹر بینن نے اپنی تقریر میں ترکی ، قطر اور ایران کو مشرق وسطیٰ کے لیے ایک بنیادی خطرہ قرار دیا تھا کیونکہ یہ تینوں ممالک ان کے بہ قول اسرائیل مخالف ہیں۔
مسٹر بوٹیچ کے مطابق وہ جب یہ تقریر کررہے تھے تو ان کے سامعین میں وہ یہودی لیڈر بھی شامل تھے ، جنھوں نے حال ہی میں دوحہ کا دورہ کیا تھا اور امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ملاقات کی تھی۔