برطانوی سرجن کا دو مریضوں کے جگر پر مختصر دستخط کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

برطانیہ میں ایک سرجن نے ٹرانسپلانٹ سرجری کے دوران دو مریضوں کے جگر پر اپنے مختصر دستخط کرنے کا اعتراف کیا ہے۔

بدھ کے روز برمنگھم کراؤن کورٹ میں 53 سالہ سرجن سائمن بریم ہال نے اقرار کیا کہ اس نے 2013 میں 9 فروری اور 21 اگست کو ہونے والے دو مختلف آپریشنوں کے دوران اس حرکت کا ارتکاب کیا تھا۔

استغاثہ کے مطابق یہ فوجداری عدالت میں اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ ہے۔

بریم ہال نے Argon Beam کا استعمال کرتے ہوئے مریضوں کے جگر پر اپنے نام کا ابتدائی حَرف بطور مختصر دستخط ثبت کیا۔

دوسری جانب اسغاثہ کا کہنا ہے کہ مذکورہ اقدام مریض کے خلاف غیر قانونی فعل کا ارتکاب ہے۔ اس میں معالج کی حیثیت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کی ساکھ کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔

سرجن بریم ہال نے 2014 میں برمنگھم کے کوئین الیزبتھ ہسپتال سے مستعفی ہو گیا تھا۔ یہ اقدام اس کے ساتھی ڈاکٹر کی جانب سے بریم ہال کی مذکورہ حرکت کے انکشاف کے بعد سامنے آیا۔

حکام نے بریم ہال کو ضمانت پر رہا کر دیا ہے۔ برمنگھم کراون کورٹ 12 جنوری کو اس کے خلاف فیصلہ جاری کرے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں