.

’’یمن کی تمام بندر گاہیں انسانی امداد ، تجارتی اشیاء اور ایندھن کی آمد کے لیے کھلی ہیں!‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی بین الاقوامی انسانی امدادی سرگرمیوں کے نگران ڈاکٹر عبداللہ بن عبدالعزیز الربیعہ نے کہا ہے کہ یمن کی تمام بندر گاہیں انسانی امداد اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے کھلی ہیں جبکہ الحدیدہ اور سلیف کی بندر گاہوں پر بھی تجارتی سامان ، ایندھن اور انسانی امداد ی لے کر آنے والے جہاز لنگر انداز ہورہے ہیں۔

شاہی دیوان کے مشیر اور شاہ سلمان مرکز برائے ریلیف اور انسانی امدادی کام کے عمومی نگران ڈاکٹر ربیعہ نے یہ بات ماسکو میں ہفتے کے روز روس کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے ہیڈ کوارٹرز میں نیوز کانفرنس میں کہی ہے۔انھوں نے روسی صحافیوں کو سعودی عرب کی د نیا بھر میں انسانی امداد کے لیے سرگرمیوں کی تفصیل بتائی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ شاہ سلمان مرکز کے ذریعے چار براعظموں کے انتالیس ممالک اور بالخصوص یمن میں متاثرہ اور ضرورت مند افراد کو ہر طرح کی انسانی امداد مہیا کی جارہی ہے۔اس مرکز نے اپنے قیام کے بعد سے 119 مقامی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر 257 منصوبوں پر عمل درآمد کیا ہے اور ان پر ساڑھے نواسی کروڑ ڈالرز لاگت آئی ہے۔ان میں زیادہ تر منصوبے یمن کی تمام گورنریوں میں مکمل کیے گئے ہیں اور ان کی تعداد 166 ہے۔

انھوں نے وضاحت کی ہے کہ یمن میں بچوں کے لیے تعلیم ، تحفظ ، خوراک کے تحفظ ، صحت ، خوراک ، پانی اور ماحول کی صفائی ستھرائی کے شعبوں میں 80 منصوبے مختص کیے گئے تھے۔اس کے علاوہ حوثی ملیشیا کی جنگی سرگرمیوں سے متاثرہ یمنی بچوں کی نفسیاتی اور تعلیمی بحالی کے لیے بھی پروگرام شروع کیے گئے ہیں۔ان کے تحت ان یمنی بچوں کو دوبارہ اسکولوں میں بھیجا جارہا ہے۔

ڈاکٹر ربیعہ نے کہا کہ شاہ سلمان یمن کی تمام گورنریوں میں بلا امتیاز امدادی کام کررہا ہے۔ حوثی ملیشیا کے کنٹرول والے علاقوں میں بھی جنگجوؤں کی جانب سے رکاوٹیں ڈالنے کے باوجود امدادی سرگرمیاں جاری ہیں اور متاثرین تک بلاتمیز ادویہ اور امدادی سامان پہنچانے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

انھوں نے نیوز کانفرنس میں جنگ زدہ شام میں بھی شاہ سلمان مرکز کی امدادی سرگرمیوں کی تفصیل سے آگاہ کیا ہے اور بتایا کہ اس وقت 2 لاکھ 62 ہزار شامی مہاجرین سعودی مملکت میں معزز مہمان کی حیثیت سے رہ رہے ہیں۔ان کے علاوہ ہزاروں شامی سعودی عرب میں ملازمتیں کررہے ہیں اور ایک لاکھ 14 ہزار شامی بچوں کو سعودی اسکولوں میں مفت تعلیم دی جارہی ہے۔

اس موقع پر روس میں سعودی سفیر ڈاکٹر راعد خالد قرملی ، ماسکو میں یمنی سفیر، انسانی امدادی کے کام اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے نمائندے اور مبصرین بھی موجود تھے۔