ترکی : گولن تحریک سے تعلق پر بند یونیورسٹی کے 54 سابق ملازمین گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ترکی میں پولیس نے ایک یونیورسٹی کے 54 سابق ملازمین کو فتح اللہ گولن کی تحریک سے تعلق کے الزام میں گرفتار کر لیاہے۔اس یونیورسٹی کو گذشتہ سال صدر رجب طیب ایردوآن کی حکومت کے خلاف ناکام فوجی بغاوت کے بعد بند کردیا گیا تھا۔

ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولو کے مطابق پولیس کے پاس استنبول میں واقع سابق فتح یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے 171 اساتذہ اور عملہ کے ارکان کے وارنٹ گرفتاری تھے۔ان پر گولن تحریک سے تعلق اور صدر ایردوآن کے خلاف ناکام بغاوت میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔تاہم امریکا میں مقیم علامہ فتح اللہ گولن نے حکومت کا تختہ الٹنے کی اس سازش سے کسی قسم کی لاتعلقی ظاہر کی تھی۔

فتح یونیورسٹی کو ایک سرکاری فرمان کے تحت بند کردیا گیا تھا ۔اناطولو کے مطابق اس جامعہ کا عملہ اور اساتذہ پیغام رسانی کی ایپلی کیشن ’’ بائی لاک ‘‘ کو استعمال کررہے تھے۔ ترک حکومت کا کہنا ہے کہ اس ایپلی کیشن کو فتح اللہ گولن کے حامی آپس میں باہمی تعلق وربط کے لیے استعمال کرتے رہتے تھے۔

یاد رہے کہ 15 جولائی 2016ء کو ناکام فوجی بغاوت کے بعد سے ترکی میں سرکاری ملازمین ، سکیورٹی اہل کاروں اور ججوں سمیت پچاس ہزار سے زیادہ افراد کو گرفتار کر کے جیلوں میں ڈال دیا گیا تھا اور اب ان کے خلاف بغاوت کے الزامات میں مقدمات چلائے جا رہے ہیں۔ان کے علاوہ ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ ملازمین کو معطل یا برطرف کیا جاچکا ہے۔

انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ ترک حکومت اپنے مخالفین کو خاموش کرانے کے لیے کریک ڈاؤن کررہی ہے جبکہ حکومت کا موقف ہے کہ ملک کو درپیش سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے یہ کریک ڈاؤن ضروری تھا۔اس ناکام فوجی بغاوت کے دوران میں قریباً ڈھائی سو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں