یمن: حوثی باغی عام شہریوں کو کیسے ڈر ا دھمکا کر جنگ میں جھونک رہے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

حوثی ملیشیا کے لیڈر یمن کی گورنر ی ضامر میں عام شہریوں کو زور زبردستی جنگ میں جھونکنے کے لیے بھرتی کررہے ہیں جبکہ یمنی فوج بڑی تیزی سے اس محاذ کی جانب پیش قدمی کررہی ہے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ حوثی ملیشیا زبردستی شہریوں کو بھرتی کررہی ہے، سابق فوجیوں کو البیضاء کے محاذ پر یمنی فوج کے خلاف لڑائی پر مجبور کررہی ہے اور جو کوئی بھی حوثی ملیشیا کے ساتھ لڑائی میں شامل ہونے سے انکار کرتا ہے تو اس کو اغوا کر لیا جاتا ہے۔

ان ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا کے بھرتی کنندہ اسکولوں میں بھی جارہے ہیں اور وہاں سے طلبہ کو لڑائی کے لیے بھرتی کررہے ہیں۔ بالخصوص اسکینڈری یا ہائی اسکولوں کے طلبہ کو حوثی ملیشیا کی صفوں میں بھرتی کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

یمنی فوج کے ساتھ حال ہی میں لڑائی اور سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد کے فضائی حملوں میں حوثی ملیشیا کے سیکڑوں جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

دریں اثناء یمنی فوج نے جمعرات کے روز البیضاء میں واقع دو اضلاع نعمان اور ناطع کو حوثی باغیوں سے آزاد کرا لیا ہے۔سرکاری فوج نے البیضا ء میں حوثی باغیوں کے خلاف لڑائی میں پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے اور تزویراتی اہمیت کی حامل بہت سی دوسری جگہوں پر بھی دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

یمن کے شمالی صوبے الجوف میں بدھ کو سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کے لڑاکا طیاروں کے فضائی حملوں میں بیسیو ں حوثی جنگجو ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں۔یمنی فوج کی اطلاع کے مطابق :’’ صوبے کے شمال میں نظامت مطعون میں حام کیمپ میں واقع حوثی ملیشیا کے اسلحہ کے ڈپوؤں اور فوجی تنصیبات کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا ہے‘‘۔ اس فضائی بمباری میں حوثی ملیشیا کی متعدد بھاری گاڑیاں بھی تباہ ہوگئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں