.

پوتین کا بشار سے رابطہ ، شام کے دفاع پر کاربند رہنے کی یقین دہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس میں کرملن کے ایک اعلان کے مطابق صدر ولادیمر پوتین نے ہفتے کے روز شامی صدر بشار الاسد سے ٹیلیفون پر رابطہ کر کے آگاہ کیا کہ ماسکو شام کی مدد اور اس کے دفاع کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

کرملن نے واضح کیا کہ روسی صدر نے نئے سال کی مبارک باد دینے کے لیے شامی صدر سے رابطہ کیا۔

یاد رہے کہ 11 دسمبر کو روسی صدر کے شام میں لاذقیہ میں حمیمیم کے عسکری اڈے کے دورے کے دوران ایک روسی فوجی اہل کار نے آگے بڑھ کر بشار الاسد کو پوتین کے ہمراہ چلنے سے روک دیا تھا۔ مذکورہ فضائی اڈے پر روس کے فوجی طیارے اور فورسز تعینات ہیں۔

اس سے قبل 21 نومبر کو کرملن نے اعلان کیا تھا کہ پوتین نے روس کے ساحلی شہر سُوشی میں ایک روز بشار الاسد سے ملاقات کی تھی۔ یہ ملاقات شامی بحران کو زیر بحث لانے کے لیے روس ، ترکی اور ایران کی سربراہ اجلاس سے قبل ہوئی تھی۔

یہ دوسرا موقع تھا کہ شام میں 6 برسوں سے جاری جنگ کے دوران بشار الاسد اپنے ہم منصب پوتین سے ملاقات کرنے کے لیے روس روانہ ہوا۔ 2011 سے جاری اس جنگ کے نتیجے میں اب تک 4 لاکھ کے قریب افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جب کہ لاکھوں بے گھر ہو گئے۔

بشار کا پہلا دورہ اکتوبر 2015 میں تھا۔ یہ دورہ شام میں بشار کی فوج کی معاونت کے لیے روسی افواج کی عسکری مہم کے آغاز سے تھوڑا پہلے کیا گیا تھا۔