.

علی صالح کے وفادار ملازمین کی جگہ حوثیوں کا تقرر

حوثیوں نے اداروں سے علی صالح کے حامیوں کا صفایا شروع کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح کے قتل کے بعد ایران نواز حوثی باغی ان کے حامیوں کو چن چن کر نشانہ بنارہے ہیں۔

جنگ زدہ علاقوں سے العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق حوثی باغیوں نے اپنے زیر تسلط علاقوں میں قائم محکموں میں کام کرنے والے علی صالح کے مقربین اور پیپلز کانگریس سے وابستہ افراد کو نکال باہر کرنے کے لیے ایک نئی مہم شروع کی ہے۔ اسی مہم کے تحت گذشتہ روز حوثیوں کی غیر قانونی انتظامیہ کی طرف سے 32 نئے حکم نامے جاری کیے گئے۔ ان حکم ناموں میں علی صالح کے وفاداروں کو سرکاری عہدوں اور ملازمتوں سے نکال باہر کرنا اور ان کی جگہ حوثیوں کے من پسند افراد کا تقرر کرنا ہے۔

تفصیلات کے مطابق حوثی شدت پسندوں کی نام نہاد حکومت، جسے عالمی سطح پر غیر قانونی قرار دیا جا چکا ہے، نے علی صالح کے حامیوں سے وزارتوں کے قلم دان واپس لینا شروع کردیے ہیں۔ حال ہی میں حوثی گروپ نے علی صالح کی جماعت کے رکن ذیاب بن معیلی سے پٹرولیم کی وزارت واپس لے کر اپنے ایک من پسند شخص احمد دارس کو پٹرولیم کا وزیر مقرر کیا گیا۔ اسی طرح علی صالح کے مقرر کردہ وزیر داخلہ اور ٹیلی کمیونیکیشن کے وزراء کو بھی ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

حوثیوں کی طرف سے اعلیٰ عہدوں پر ایسے عناصر کو تعینات کیا جا رہا ہے کہ یمن کی آئینی حکومت اور سیکیورٹی اداروں کو دہشت گردی کے الزامات میں ماخوذ ہیں۔ علی صالح کے وفاداروں کوہٹا کر ان کی جگہ نئی تقرریاں کی جا رہی ہیں۔ حوثیوں کے ایک مقرب احمد حامد کو ایوان صدر کا ڈائریکٹر، عبدالرب جرفان کو قومی سلامتی کے ادارے کا چیئرمین، عبدالقادر الشامی کو پولیٹیکل سیکیورٹی کا چیئرمین اور علی العماد کو مانیٹرنگ و احتساب کے ادارے کا سربراہ لگایا گیا۔

حوثیوں کی جانب سے من مانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے علی صالح کی ایسے تمام وفاداروں کو ان کے عہدوں سے ہٹایا جا رہا ہے جو حوثیوں کے احکامات پر عمل درآمد سے گریزاں ہیں۔ گورنریوں، سرکاری اداروں، جامعات اور کئی دوسرے اداروں میں ملازمت کرنے والے علی صالح کے وفاداروں کو ملازمتوں سے محروم کر دیا گیا ہے اور ان کی جگہ حوثیوں کی تقرریاں کی جا رہی ہیں۔