.

یمن کے حوثیوں سے ایران کے دوستانہ مراسم کب اور کیسے قائم ہوئے؟

حوثیوں کو اسلحہ کی فراہمی کا مقصد خلیج کی سلامتی کو تباہ کرنا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں خمینی کے انقلاب کے بعد برسراقتدار ٹولے نے اس نام نہاد انقلاب کو خطے کے دوسرے ممالک تک پھیلانے کا فیصلہ کیا۔ اگرچہ آج تک ایران کا یہ خواب تو پورا نہیں ہو سکا مگر ایران نے خطے میں پھیلے بعض طبقات کی ہمدردیاں سیمٹنے کے لیے ان کی مالی، عسکری، مادی اور معنوی مدد شروع کردی۔

العربیہ کے مطابق ایرانی رجیم نے اپنے انقلاب کو یمن میں پھیلانے کے لیے صعدہ کے علاقے میں آباد حوثی گروپ کا انتخاب کیا۔ حوثی مسلکی طور پر شیعہ مذہب کے پیروکار تھے اس لیے ان کی ایران کی طرف داری آسان تھی۔ ایران نے حوثیوں کے ذریعے اپنے توسیع پسندانہ نظریے کو یمن میں مسلط کرنے کے لیے اس گروپ کی ہرطرح سے مدد شروع کردی۔

ایران اور حوثیوں کے درمیان تعلقات کا آغاز گذشتہ صدی کی 80 اور 90 کی دہائی سے ہوا۔ حوثی تحریک کے لوگوں نے اپنے بچوں کو مذہبی تعلیم دلوانے کے لیے ایران کے مذہبی مدارس کا انتخاب کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ایرانی رجیم نے حوثیوں کو مسلح کرنا شروع کیا تا کہ ایک طاقت ور عسکری گروپ میں تبدیل کرکے حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے کی راہ ہموار کی جا سکے۔ یوں مالی اور عسکری امداد لینے کے بعد حوثی جزیرۃ العرب کے جنوب میں ایران کا بازو قرار پائے اور انہوں نے ایرانی اسلحے کے زور پر باب المندب گذرگاہ پر قبضہ کرکے بین الاقوامی سمندری جہاز رانی کو خطرے میں ڈال دیا۔

سنہ 2010ء سے 2014ء کے دوران حوثیوں نے حکومت کے خلاف چھ جنگیں لڑیں۔

دو سال قبل جب حوثیوں نے ملک کی آئینی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور صنعاء پر ان کا قبضہ ہو گیا تو پوری دنیا پر یہ بات آشکار ہو گئی کہ اس ساری سازش کے پیچھے اصل میں ایران ہے۔ یہ سب کھیل تماشا ایران کی مدد سے کیا گیا ہے۔ حوثیوں نے کھل کر اعتراف کیا کہ ایران ان کا اسٹریٹیجک پارٹنر ہے۔ ایرانی ہوائی جہاز پاسداران انقلاب کے اہلکاروں اور اسلحہ لے کر صنعاء کے ہوائی اڈے پر اترنے لگے۔

ایران کی مجرمانہ مداخلت روکنے کے لیے سعودب عرب کی قیادت میں پہلے فیصلہ کن طوفان آپریشن اور بعد میں ’امید کی بحالی‘ آپریشن شروع کیا گیا۔ ان دونوں آپریشنز کا مقصد یمن کو ایران کی گود میں لے جانے کے حوثیوں کی سازشوں کو ناکام بنانا تھا۔

ایران کے توسیع پسندانہ عزائم صرف یمن تک محدود نہیں رہے بلکہ اس نے دوسرے خلیجی ملکوں میں بھی اپنے گماشتے پالے۔ انہیں عسکری، مالی اور لاجسٹکس امداد فراہم کی۔ حوثیوں اور دوسرے گروپوں کو اسلحہ، رقوم اور میزائل ٹیکنالوجی فراہم کرنے کا مقصد خلیجی کی سلامتی کو تباہ کرنا ہے۔

ایران نے مشرقی سعودی عرب کے القطیف شہر میں شیعہ عناصر کو سعودی حکومت کے خلاف اکسایا۔ وزارت داخلہ نے تحقیقات کیں تو پتا چلا کہ وہاں پر ایران کی حمایت اور مدد سے ایک گروپ سرگرم ہے جس کے بیشتر عناصر ایران میں روپوش ہیں۔

کویت میں ’العبدلی‘ سیل کا تعلق بھی ایران اور حزب اللہ سے ثابت ہوا جس کے بعد بہ طور احتجاج کویت نے ایران میں اپنے سفارتی مشن کا درجہ کم کردیا۔

خلیجی ممالک میں ایرانی مداخلت کی ایک اہم مثال بحرین ہے۔ بحرین میں کئی دہشت گرد گروپوں کو ایران کی طرف سے ملک کے امن کو تاراج کرنے کے لیے ہرقسم کی مدد فراہم کی گئی۔