.

جاسوسی کا شبہ، جرمن پولیس کو 6 ایرانیوں کی تلاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی میں ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ پولیس ایران کے 10 رکنی ایک گروپ کے 6 مشتبہ مفرور افراد کو جاسوسی کے شبے میں تلاش کررہی ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق مبینہ طورپر جاسوسی کی سرگرمیوں میں ملوث چھ ایرانی باشندوں کی تلاش کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہےہیں۔ انٹیلی جنس اداروں کو شک ہے کہ اچانک روپوش ہونے والے یہ ایرانی جرمنی میں جاسوسی میں سرگرم رہے ہیں۔

جرمنی کے وفاقی پراسیکیوشن دفتر کے ترجمان نے بتایا کہ منگل کو جرمنی کے مختلف علاقوں میں مشتبہ ایرانیوں کی تلاش کے لیے چھاپے مارے گئے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس اداروں کو شبہ ہے کہ مشتبہ ایرانی شہریوں کے ایرانی انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ روابط ہیں اور وہ جرمنی کی اہم شخصیات اور اداروں کے بارے میں انہیں معلومات فراہم کرتے رہے ہیں۔

ایک مقامی ہفت روزہ جریدے ’فاکس‘ کے مطابق مشتبہ ایرانی جرمنی میں اسرائیل کے خلاف جاسوسی کرتے رہے ہیں۔ پولیس اور انٹیلی جنس ادارے ملزمان کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں تاہم آخری اطلاعات تک کسی ملزم کی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی گئی۔

خیال رہے کہ گذشتہ مہینے جرمنی نے ایک پاکستانی شہری کے ایران کے لیے جاسوسی کو سزا دیے جانے کے بعد برلن نے ایرانی سفیر کو طلب کرکے شدید احتجاج کیا تھا۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایرانی جاسوس کو گذشتہ برس برلن کی ایک عدالت نے چار سال قید کی سزا سنائی تھی۔ جاسوسی کے اہداف میں جرمن۔ اسرائیل رابطہ گروپ کے چیئرمین راینھولڈ روبہ بھی شامل تھے۔

کرسمس سے چند روز قبل جرمنی میں متعین ایرانی سفیر علی مجیدی کو طلب کرکے ایک احتجاجی مراسلہ تھمایا گیا۔ جرمن وزارت خارجہ نے کہا کہ ایران جرمنی میں مقیم اسرائیلی شخصیات کی جاسوسی کرا رہا ہے اور یہ اقدام جرمنی کے قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔