.

ایرانی پرچم اتار پھینکنے پر 15 سالہ لڑکے کو پانچ سال جیل کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پارلیمان کے ایک رکن نے انکشاف کیا ہے کہ ایک انقلابی عدالت نے پندرہ سالہ لڑکے کو حالیہ حکومت مخالف مظاہروں کے دوران میں قومی پرچم اتار پھینکنے کے الزام میں قصور وار قرار دے کر پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے۔

ایران کی عدالتی کمیٹی کے رکن محمد کاظمی نے آن لائن نیوز سائٹ اعتماد کو بتایا ہے کہ انھوں نے وسطی شہر ہمدان میں جیل میں قید اس لڑکے سے ملاقات کی ہے۔استغاثہ کے مطابق اس لڑکے نے شہر کے ملیار چوک میں آویزاں قومی پرچم کو اتار پھینکا تھا۔

واضح رہے کہ ایرانی نظام کے خلاف حالیہ احتجاجی تحریک میں حصہ لینے کی پاداش میں ہائی اسکولوں کے سیکڑوں طلبہ کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ایران کے معاون وزیر داخلہ برائے سکیورٹی امور حسین ذوالفقاری نے بھی اس کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ احتجاجی تحریک کے دوران میں گرفتار کیے گئے مظاہرین میں 90 فی صد سے زیادہ لڑکے یا نوجوان تھے۔

ایران کے مرکز برائے انسانی حقوق نے خبردار کیا ہے کہ ملک کا عدالتی نظام مظاہرین پر ’’ کرپشن ‘‘ اور ’’ لڑائی‘‘ کے الزامات عاید کررہا ہے ۔اگر عدالت ان الزامات کی بنیاد پر فرد جرم عاید کر دیتی ہے تو اس کی سزا موت بھی ہوسکتی ہے۔ہمدان شہر میں بیسیوں شہریوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور انھیں اس کڑی سزا کا سامنا ہوسکتا ہے۔

گذشتہ ماہ کئی روز تک ملک گیر مظاہرے کیے گئے تھے۔ یہ مظاہرے مشہد شہر سے شروع ہوئے تھے اور پھر ملک کے ایک سو سے زیادہ شہروں اور قصبوں تک پھیل گئے تھے۔مظاہرین غربت اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے سڑکوں پر نکلے تھے لیکن پھر انھوں نے آیت اللہ علی خامنہ ای کے رجیم کے خاتمے کے لیے نعرے بازی شروع کردی تھی اور وقت کے ساتھ ان کا یہ مطالبہ زور پکڑ گیا تھا۔