فرانسیسی جیلوں میں 1500 مقامات شدت پسندوں کے لیے مختص

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فرانسیسی حکومت نے گذشتہ برس اکتوبر میں دہشت گردی اور انتہا پسندی سے نمٹنے کے اپنے وعدے پرعمل درآمد کرتے ہوئے بنیاد پرست عناصر کو جیلوں میں ڈالنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فرانسیسی حکومت کے سربراہ ڈوار فیلپ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک کو بنیاد پرستی سےپاک کرکے کے لیے انتہا پسند عناصر کو جیلوں میں ڈالا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بنیاد پرست اور انتہا پسند سوچ رکھنے والے افراد کے لیے جیلوں میں الگ تھلگ 1500 مقامات مختص کیے گئے ہیں جہاں ان عناصر کو رکھا جائے گا۔

اس منصوبے کے تحت شام اور عراق سے جنگجو گروپوں میں شامل رہنے کے بعد واپس لوٹنے والے کم عمر جنگجوؤں کو ’راہ راست‘ پر لانے کا بھی پروگرام شامل ہے۔

ایڈار فیلپ نے انکشاف کیا کہ ملک میں 60 نئے سیکیورٹی اقدامات کیے گئے ہیں۔ فیلپ نے ان خیالات کا اظہار ملک کے شمالی علاقوں کے دورے کے دوران کیا۔ اس دورے میں ان کے ساتھ وزیر داخلہ، انصاف، تعلیم اور یوتھ کے وزراء سمیت 12 وزیر بھی ہمراہ تھے۔

انسداد انتہا پسندی سے متعلق اقدامات میں انتہا پسندوں کو جیلوں میں ڈال کر ان کے مالی اور فکری سوتوں کو خشک کرنا ہے۔ انتہا پسندی کےالزام میں قید کیے گئے افراد کو ایک دوسرے سے گھل مل کر رہنے کی اجازت نہیں ہوگی بلکہ وہ الگ تھلگ رہیں گے۔ اطلاعات یہ ہیں کہ جیلوں میں ڈالے جانے والے عناصر میں 60 فی صد پیرس اور اس کے اطراف سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہوں گے۔ مسٹر فیلپ نے کہا کہ انتہا پسندوں کا ٹھکانہ صرف جیل ہوگی۔

خیال رہے کہ فرانس میں 500 افرادکو انتہا پسندی کی کاررائیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے جبکہ 1193 افراد پرانتہا پسندانہ نظریات کی طرف مائل ہونے کا شبہ کیا جاتا ہے۔ انہیں شبے کی بنیاد پر قید کیا گیا ہے۔ فرانسیسی وزیراعظم اڈوار فیلپ کاکہنا ہے کہ 8 سے 13سال کے کم عمر جنگجو بھی فرانس میں داخل ہوئے ہیں۔ حکومت انہیں دوبارہ معمول کی زندگی پر لانے اور ان کا تعلیمی سلسلہ بحال کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں