.

ایران کے ساتھ جوہری معاہدے میں ترمیم کے لیے ٹرمپ کی 3 اضافی شرائط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو منسوخ کرنے کے بجائے اس کی ترمیم کے واسطے 3 نئی شرائط پیش کی ہیں۔

جوہری معاہدے کا دائرہ کار وسیع کرنے کے لیے پیش کی جانے والی اضافی شرائط میں ایران کا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنا ، سائبر حملوں اور دھمکیوں کا سلسلہ بند کرنا اور پاسداران انقلاب کی اقتصادی سرگرمیوں کو منجمد کرنا شامل ہے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے ایک امریکی عہدے دار کے حوالے سے بتایا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جوہری معاہدے کی مدت کی توسیع کے واسطے مذکورہ تین مطالبات کے علاوہ سابقہ مطالبات بھی پورے کرنے کی شرط رکھی ہے۔ سابقہ مطالبات میں ایران کا بیلسٹک میزائلوں کی تیاری ، ترقی اور تجربات کو روکنا ، خطّے کے ممالک سے پاسداران انقلاب کی فورسز کو واپس بلانا اور ایران میں تمام جوہری تنصیبات پر ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے معائنے کی اجازت دینا اور معاہدے کی اس شِق میں ترمیم کرنا جس کے مطابق ایرانی جوہری پروگرام 10 برس بعد دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔

امریکی صدر نے اپنے یورپی حلیفوں کو 120 روز کی مہلت دی تھی تا کہ اس دوران وہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کا جائزہ لے لیں۔ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ 11 مئی کو مہلت کے اختتام پذیر ہونے سے قبل اگر معاہدے کی اصلاح نہیں کی گئی تو امریکا معاہدے سے نکل جائے گا۔ ادھر ایران یہ دھمکی دے رہا ہے کہ اگر امریکا اس معاہدے سے باہر آیا تو تہران اپنی جوہری سرگرمیوں کی طرف پھر سے لوٹ جائے گا۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو امریکا کی تاریخ کا بدترین سمجھوتا قرار دیتے ہیں۔

نئی شرائط کے حوالے سے ایسا لگتا ہے کہ ایران نے دباؤ کے سبب لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے عارضی طور پر بیلسٹک میزائلوں کے تجربات بھی روک دیے گئے ہیں۔

ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے معائنہ کاروں کی جانب سے کچھ عرصہ قبل جاری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ایران یورینیئم کی افزودگی منجمد کرنے اور متنازع سرگرمیاں روک دینے کے حوالے سے کاربند رہا ہے۔ ایجنسی نے باور کرایا کہ تہران جوہری معاہدے کی تکنیکی شقوں کی پاسداری کر رہا ہے۔

سیاسی میدان میں حسن روحانی کی حکومت نے مغربی ممالک اور امریکا کو اس طرح کے اشارے بھیجے ہیں کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ یہاں تک کہ ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف اور ان کے معاونین نے بہت سے مضامین ، انٹرویوز اور سیاسی محفلوں میں اس بات کا اظہار کیا ہے کہ ان کی حکومت میزائل پروگرام سے متعلق مسائل کو زیر بحث لانے پر آمادہ ہے۔

البتہ ان تمام رعائتوں اور دست برداریوں کے باوجود ایسا لگتا ہے کہ بعض شقوں میں ترمیم کی شرط اور واشنگٹن کی جانب سے مسلسل یہ مطالبہ کہ معاہدے کی مدت مکمل ہو جانے کے بعد بھی ایرانی جوہری پروگرام پر پابندی برقرار رہے.. یہ اُن مشکل ترین شرائط میں سے ہے جو ایران میں سخت گیر حلقوں کے سامنے روحانی کی حکومت کے موقف کو کمزور بناتی ہیں۔

جہاں تک دیگر شرائط مثلا پاسداران انقلاب کی معیشت میں مداخلت ، خطے کے ممالک میں دہشت گری کی سپورٹ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا تعلق ہے تو یہ ایسے معاملات ہیں جن کے سبب سخت گیر حلقہ جن میں مرشد اعلی علی خامنہ ای سرفہرست ہیں جوہری معاہدے سے نکلنے کا رخ کر سکتا ہے۔