احمدی نژاد کے معاون کی سزائے قید سے افریقا میں ایرانی مداخلت بے نقاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایرانی عدالت نے سابق صدر محمود احمدی نژاد کے انتظامی امور کے معاون خصوصی حمید بقائی کو 15 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کو معلوم ہوا ہے کہ بقائی کو بہ ظاہر بدعنوانی کے الزام میں پندرہ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے مگران کی اس سزا کا اصل سبب کرپشن نہیں بلکہ افریقی ممالک میں ایران کی مداخلت کو بے نقاب کرنا ہے۔ ان پر اصل الزام یہ ہے کہ انہوں نے پاسداران انقلاب کی بیرون ملک سرگرم ’القدس ملیشیا‘ کے افریقی ملکوں کے لیے مختص کیے گئے کروڑوں یورو چھپا لیے تھے۔

جیل جانے سے قبل حمید بقائی نے القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کے نام ایک کھلا خط شائع کرایا۔ یہ مکتوب احمدی نژادی کی مقرب ’دولت بہار‘ ویب سائیٹ پر بھی شائع ہوا۔ اس میں انہوں نے انٹیلی جنس چیف حسین طائب کی طرف سے 35 لاکھ یورو اور ساڑھے سات لاکھ ڈالر کی رقم خرد برد کرنے کے الزام کے تحت قائم کردہ مقدمہ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ رقم افریقی ممالک میں ایرانی مداخلت کے لیے مختص کی گئی تھی جسے تحائف کی شکل میں ان ملکوں تک پہنچایا جانا تھا۔

دوسری جانب احمدی نژاد کے معاون حمید بقائی نے نژاد کے آخری دور حکومت میں اتنی بڑی رقم حاصل کرنے کی سختی سے تردید کی ہے۔ اپنے مکتوب میں انہوں نے لکھا ہے کہ اتنی خطیر رقم کو خفیہ طورپر افریقی ملکوں کے لیے خرچ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاسداران انقلاب قومی املاک کو ماورائے قانون اپنے مقاصد کے لیے استعمال کررہی ہے۔

اڑتالیس سالہ حمید بقائی سنہ 2005ء سے 2013ء تک سابق صدر محمود احمدی نژاد کے معاون خصوصی کے عہدے پر تعینات رہے ہیں۔

دولت بہار ویب سائیٹ کے مطابق بقائی کو دارالحکومت تہران میں قایم ایفین جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔ انہوں نے اپنی گرفتاری اور قید کو بلا جواز قرادیتے ہوئے بہ طور احتجاج جیل میں بھوک ہڑتال کا اعلان بھی کیا ہے۔

حمید بقائی اس سے قبل بھی متعدد مکتوبات شائع کراچکے ہیں۔ ایرانی سپریم لیڈر کے نام ایک مکتوب میں انہوں نے اپنی بار بار گرفتاریوں کو ’ظلم عظیم‘ قرار دیاتھا۔

حمید بقائی کی پہلی بار گرفتاری جون 2015ء میں عمل میں لائی گئی اور انہیں بدعنوانی کے الزام میں سات ماہ تک قید رکھا گیا تھا تاہم بعد ازاں انہیں ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا۔ حالیہ عرصے کے دوران سابق صدر محمود اٰحمدی نژاد اور موجودہ حکومت کے درمیان سخت محاذ آرائی کی کیفیت پائی جاتی رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں