یورپی یونین نے ان ملکوں کو ویزہ نہ دینے کی دھمکی دے دی

فیصلے پر عمل درآمد سے شام، عراق، یمن، نائجیریا، صومالیہ اور افغانستان متاثر ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یورپی کمیشن نے حال ہی میں ایک نیا منصوبہ پیش کیا ہے، جس کے تحت غیر قانونی تارکین وطن کو واپس قبول نہ کرنے والے ممالک کے شہریوں کو ویزوں کے اجرا میں سختی لائی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق یورپی کمیشن کا منصوبہ ہے کہ ایسے ممالک جو اپنے ایسے شہریوں کو واپس قبول نہیں کریں گے، جو غیر قانونی طور پر یورپی یونین پہنچے، تو ان کے لیے ویزہ پالیسی کو سخت ترین بنا دیا جائے۔ بتایا گیا ہے کہ اب تارکین وطن کو قبول کرنے میں پس وپیش کرنے والے ممالک کے شہریوں کو یورپی ریاستوں کے ویزے جاری کرنے کے لیے نئے اور سخت قواعد کا سامنا ہو گا۔

یورپی یونین کی رکن ریاستوں کی کوشش ہے کہ غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے تارکین وطن کی تعداد میں کمی لائی جائے۔ یہ بات اہم ہے کہ یورپی ممالک میں پہنچنے والے زیادہ تر شہری مسلح تنازعات اور غربت کے شمار ممالک سے تعلق رکھتے ہیں، جن میں شام، عراق، یمن، نائجیریا، صومالیہ، افغانستان اور دیگر ممالک شامل ہیں۔

یورپی ممالک سیاسی پناہ کے ناکام درخواست گزاروں کو ان کے آبائی ممالک بھیجنے میں کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ یورپی یونین کا الزام ہے کہ یہ ممالک اپنے شہریوں کو واپس قبول کرنے میں حیلے بہانوں سے کام لیتے ہیں۔

گذشتہ برس یورپی رہنماؤں نے اتفاق کیا تھا کہ یورپ کو اپنی ویزہ پالیسی کو تارکین وطن کی واپسی سے نتھی کر دینا چاہیے۔ یورپی کمیشن کی جانب سے تجویز کردہ منصوبے میں اس نظام کا تعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت تارکین وطن کی واپسی میں تعاون نہ کرنے والے ممالک کے شہریوں کی بابت ویزوں کے اجرا میں سختی لائی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں