.

کابل میں خودکش حملے میں 26 افراد جاں بحق جبکہ 18 زخمی ہوگئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں خودکش حملے میں26افراد جاں بحق جبکہ 18زخمی ہوگئے ہیں.

افغانستان کے نائب وزیرداخلہ نے خودکش حملے کی تصدیق کی ہے۔ جبکہ خودکش حملہ علی آباد اسپتال اور کابل یونیورسٹی کے قریب ہواہے۔ خودکش حملہ گاڑی کے ذریعے کیا گیاہے۔ بدھ کو یہ خودکش حملہ کابل کے سخی مزار کے قریب اس وقت ہوا جب مزار میں جشنِ نوروز منایا جا رہا تھا۔

وزارتِ داخلہ کے نائب ترجمان نصرت رحیمی نے بتایا کہ یہ حملہ مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12 بج کر 40 منٹ پر ہوا۔ انھوں نے بتایا کہ ایک خودکش حملہ آور پیدل چلتا ہوا آیا اور وہ مزار کے اندر موجود افراد کو نشانہ بنانا چاہتا تھے۔نائب ترجمان کا کہنا تھا کہ اپنے ہدف تک پہنچنے سے قبل ہی سکیورٹی فورسز نے خودکش حملہ آور کو روکا تو اس نے کابل یونیورسٹی کے نزدیک علی آباد ہسپتال کے قریب اس نے اپنے آپ کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا لیا۔

ابھی تک کسی تنظیم نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔کابل کے سخی مزار کا شمار شہر کے بڑے مزاروں میں ہوتا ہے۔اس سے قبل بھی سخی مزار پر یومِ عاشورہ کے موقع ہونے والے دھماکے میں درجن سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تاحال جائے وقوعہ پر امدادی کارکںان امدادی کاموں میں مصروف ہیں اور حملے میں مرنے والوں کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ہے۔

دھماکے کے بعد جائے وقوع پر جابجا لاشیں بکھری ہوئی نظر آئیں۔یہ دھماکا ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب افغان شہری نئے سال کے آغاز کا جشن نوروز منانے میں مصروف تھے۔دھماکے کی ذمہ داری ابھی تک کسی گروپ کی جانب سے قبول نہیں کی گئی افغان وزارت داخلہ نے بتایا کہ خودکش دھماکا کابل یونیورسٹی اور علی آباد اسپتال کے قریب ہوا