فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے خاموشی توڑ دی، غلطیوں کا اعتراف

ڈیٹا چوری کے بعد فیس بک پر لوگوں کے اعتماد اور شیئرز کی قیمتوں میں 60 کمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بین الاقوامی شہرت یافتہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم "فیس بک" کے سر براہ مارک زکر برگ نے اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا ہے۔ ان کہنا ہے کہ "فیس بک" سے عوام کے اعتماد کو جو ٹھیس پہنچی ہے، اسے بحال کریں گے۔

زکربرگ نے کہا کہ جو کچھ ہوا اس سے بچنے کے لیے کئی سال پہلے اقدامات کیے تھے مگر اب فیس بک کو ایک قدم آگے بڑھانے کی ضرورت ہے، اگر ہم عوام کے ڈیٹا کی حفاظت نہیں کر سکتے تو کام چھوڑ دینا چاہیے۔

ان تمام ایپلی کیشنز کی تحقیقات ہوں گی جو ڈیٹا کے لیے 2014 سے قبل دستیاب تھیں۔ کیمبرج انالیٹیکا اسکینڈل کے بعد مزید حفاظتی اقدامات کیے جائیں گے، ڈیٹا کمپنی کیمبرج اینالیٹیکا کے معاملے میں ہم نے ٹھوکر کھائی۔

دوسری جانب برطانوی ٹی وی کے مطابق فیس بک پر لوگوں کے اعتماد میں 60 فی صد کمی آئی ہے جبکہ 80 فی صد کو یہ علم نہیں کہ ڈیٹا کا کیا استعمال ہوتا ہے، فیس بک کے شیئرز کی قیمتیں پہلے ہی گرچکی ہیں۔

برطانوی اور یورپی ادارے فیس بک اور کیمبرج اینالیٹیکا کے خلاف تحقیقات کر رہے ہیں کہ کیا امریکی صدارتی انتخاب میں ٹرمپ کی کامیابی اور بریگزٹ کو ممکن بنانے کے لیے سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کا ڈیٹا چوری کرکے نتائج کو متاثر کیا گیا۔

برطانوی اور امریکی میڈیا کے مطابق کیمبرج اینالیٹیکا نے مبینہ طور پر ایک سافٹ ویئر کے ذریعے 2014 میں فیس بک استعمال کرنے والے 5 کروڑ صارفین کا ڈیٹا چوری کیا اور اس ڈیٹا کے ذریعے مختلف پارٹیوں سے پیسے لے کر انتخابی نتائج کو متاثر کیا تھا۔

حال ہی میں برطانیہ کے چینل فور نے خفیہ تفتیشی ویڈیو جاری کی ہے جس میں کیمبرج اینالیٹیکا کے سربراہ کو اعتراف کرتے دیکھا جا سکتا ہےکہ اُن کی فرم اپنے کلائنٹس کے مخالفین کو بدنام کرنے کے لیے کس طرح غیر قانونی حربے استعمال کرتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں