تہران کے سخت ترین دشمن جان بولٹن کے حوالے سے ایران کے اندیشے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایرانی حلقوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اُس بیان پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے جس میں انہوں نے اپنے قومی سلامتی کے مشیر کے عہدے پر ایچ آر مک ماسٹر کی جگہ اقوام متحدہ میں سابق امریکی سفیر جان بولٹن کو مقرر کرنے کا اعلان کیا۔ واضح رہے کہ جان بولٹن کئی مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ یہ نہیں چاہتے کہ ایرانی نظام اپنا چالیسواں سال پورا کرے۔

گزشتہ منگل کو "فوكس نيوز" کے ساتھ ایک انٹرویو میں بولٹن کا کہنا تھا کہ ان کے نزدیک وہائٹ ہاؤس میں سعودی ولی عہد کی امریکی صدر سے ملاقات کے نتیجے میں ایرانی جوہری معاہدے کی اصلاح کے حوالے سے کوئی نتیجہ سامنے نہیں آئے گا۔

بولٹن کے مطابق ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ "امریکا کے لیے ایک تزویراتی آفت ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے کی اصلاح سے ایران کے برتاؤ میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئے گی۔

دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب کی مقرب نیوز ایجنسی "فارس" کے نزدیک بولٹن کا تقرر "شمالی کوریا کے سربراہ کم یونگ اُن کے ساتھ ٹرمپ کی ممکنہ ملاقات سے قبل امریکی صدر کی خارجہ پالیسی ٹیم کی از سر نو تشکیل کی کوشش کا حصّہ ہے"۔

ایجنسی کے مطابق جان بولٹن جو سرکاری طور پر نو اپریل کو اپنا عہدہ سنبھالیں گے، ٹرمپ کے ساتھ خارجہ پالیسی سے متعلق بہت سے ویژنز میں شریک ہوں گے اور وہ ایرانی جوہری معاہدے کے شدید ترین مخالفین میں شمار ہوتے ہیں۔

گزشتہ اکتوبر میں بولٹن نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں کہا تھا کہ "میں صدر سے مطالبہ کروں گا کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے مکمل طور پر دست بردار ہوا جائے اس لیے کہ یہ معاہدہ اسے جوہری ہتھیاروں کے حصول سے ہر گز نہیں روک سکے گا"۔

بولٹن نے گزشتہ برس اگست میں جوہری معاہدے سے نکلنے کے لیے ایک منصوبہ بھی پیش کیا تھا جسے "نیشنل ریویو" اخبار نے شائع بھی کیا۔ اس منصوبے کے اہم نکات میں پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنا، ایرانی بحری جہازوں اور طیاروں کو امریکا کے حلیف ممالک کی بندرگاہوں کے استعمال سے روکنا، ایرانیوں کے لیے ہر قسم کے ویزوں کے اجراء کا خاتمہ، نظام کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کرنے والی ایرانی اپوزیشن قوتوں کو سپورٹ کرنا اور جامع پابندیاں عائد کرنا شامل ہے جن سے ایرانی معیشت مفلوج ہو جائے۔

بولٹن کے نزدیک ایران کا تفتیش کاروں کو عسکری ٹھکانوں کے معائنے سے روکنا، یہ امر امریکی انتظامیہ کے فیصلے میں اہم وجہ ثابت ہو گا بالخصوص شمالی کوریا اور ایران کے درمیان تعلقات کی روشنی میں۔

امریکی معروف سفارت کار بولٹن نے باور کرایا کہ وہ اسباب جن کی بنا پر رونالڈ ریگن نے 1984ء میں ایران کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاست قرار دیا تھا.. وہ اسباب "آج بھی قابل اطلاق ہیں"۔

مقبول خبریں اہم خبریں