.

ایران شام ، عراق ، لبنان ، بحرین اور یمن میں دہشت گردی کی حمایت کررہا ہے: سعودی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں متعیّن سعودی سفیر شہزادہ خالد بن سلمان نے کہا ہے کہ ایرانی رجیم نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کا سلسلہ جاری رکھا ہو اہے اور وہ بدستور شام ، عراق ، لبنان ، بحرین اور یمن میں دہشت گردی کی حمایت کررہا ہے۔

انھوں نے یمن کے حوثی شیعہ باغیوں کے سعودی عرب کے چار شہروں پر بیلسٹک میزائلوں سے حملوں کے جواب میں ٹویٹر پر اپنے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور مختلف ٹویٹس میں ایران کو ان میزائل حملوں کا ذمے قراردیا ہے جو ان کے بہ قول حوثیوں کو بیلسٹک میزائل مہیا کررہا ہے۔

انھوں نے لکھا ہے :’’ایران اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد وں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دہشت گرد حوثی ملیشیا کو میزائل مہیا کررہا ہے‘‘۔

انھوں نے کہا:’’ ایران کا ریکارڈ موت اور تباہی کا ہے۔اس نے 1994ء میں بیونس آئرس میں بم دھماکوں کی سازش کی ،1996ء میں الخوبر میں دہشت گردی کے حملے کیے اور 2003ء میں الریاض میں بم دھماکے کیے تھے‘‘۔

شہزادہ خالد بن سلمان کا کہنا تھا کہ ’’ ایرانیوں نے ماضی میں واشنگٹن میں میرے پیش رو سعودی سفیر کے قتل کی سازش کی ،انھوں نے لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق حریری کو بیروت میں بم د ھماکے میں قتل کیا ، یورپی دارالحکومتوں میں اپنے سیاسی مخالفین کو موت کی نیند سلا دیا اور دہشت گرد ملیشیاؤں کو رقوم اور خطرناک ہتھیار مہیا کیے ہیں ‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’خطے میں مزید کسی تنازع سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ایران کا بین الاقوامی قانون کی تمام خلاف ورزیوں پر احتساب کیا جائے۔اب دوست اور دشمن عالمی رد عمل کو دیکھ رہے ہیں ،اس سے خطے میں طویل مدت کے لیے ممالک کے کردار میں تبدیلی رونما ہوگی ‘‘۔

شہزادہ خالد بن سلمان کا کہنا تھا کہ ’’حوثیوں نے اب تک سیکڑوں میزائل سعودی عرب کی جانب داغے ہیں۔ وہ یمن میں اپنے مخالفین کا قتلِ عام کررہے ہیں اور تنازع کے کسی سیاسی حل کے لیے پیش رفت کے بجائے اس کو طول دے رہے ہیں‘‘۔

سعودی فورسز نے اتوار کی شب حوثی باغیوں کے یمن سے دارالحکومت الریاض اور دوسرے شہروں کی جانب داغے گئے سات میزائلوں کو ناکارہ بنایا تھا۔ان میں تین الریاض پر داغے گئے تھے اور چار جنوبی شہروں خمیس مشیط ، جازان اور نجران کی فضائی حدود میں تباہ کیے گئے تھے۔