برطانیہ، فرانس میں نوجوانوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی زیرِ غور، بحث میں شدت

مکمل پابندی کی بجائے متوازن ضوابط کا تقاضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

جیسا کہ آسٹریلیا بچوں اور نوعمر افراد کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی لگانے کے معاملے میں سبقت لے گیا ہے تو فرانس اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک بھی اس پر غور کر رہے ہیں لیکن ماہرین اس اقدام کے مؤثر ہونے پر ہنوز بحث میں الجھے ہوئے ہیں۔

پابندی کے حامیوں نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ذہنی صحت کی بڑھتی ہوئی خرابی سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے لیکن دیگر کا مؤقف ہے کہ کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے کے لیے شواہد ناکافی ہیں اور وہ اس مسئلے کا مزید گہرائی اور باریک بینی سے جائزہ لینے کا تقاضہ کرتے ہیں۔

آسٹریلیا گذشتہ ماہ 16 سال سے کم عمر افراد کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی لگانے والا اولین ملک بن گیا جہاں انسٹاگرام، فیس بک، ٹک ٹاک اور یوٹیوب جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بے حد مقبول اور منافع بخش ہیں۔

فرانس میں بھی اس وقت 15 سال سے کم عمر افراد کے لیے ایسی ہی پابندی کے بلز زیرِ بحث ہے جن میں صدر ایمانوئل میکرون کا پیش کردہ بل بھی شامل ہے۔

دی گارڈین نے گذشتہ ہفتے اطلاع دی تھی کہ ایک امریکی ماہرِ نفسیات اور آسٹریلوی پابندی کے حامی جوناتھن ہیڈٹ کو کہا گیا ہے کہ وہ برطانیہ کے سرکاری حکام سے بات کریں۔

ہیڈٹ نے اپنی 2024 کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب "The Anxious Generation" میں دلیل دی کہ سکرین بالخصوص سوشل میڈیا پر بہت زیادہ وقت صرف کرنا بچوں کے دماغوں کو از سرِ نو متحرک کر رہا تھا اور "ذہنی بیماری کی وبا کا باعث بن رہا" تھا۔

سیاست دانوں میں کافی بااثر ہونے اور پذیرائی حاصل کرنے کے باوجود یہ کتاب علمی حلقوں میں متنازعہ ثابت ہوئی ہے۔

کینیڈین ماہرِ نفسیات کینڈس اوجرز نے کتاب کے جائزے میں لکھا ہے کہ ہیڈٹ کی بیان کردہ "خوفناک کہانی کو سائنسی حمایت حاصل نہیں" تھی۔

اس بات کا تعین کہ سوشل میڈیا کے استعمال سے نوجوانوں کی ذہنی صحت پر کتنا اثر ہوتا ہے، ایک اہم اختلافی نکتہ رہا ہے۔

آسٹریلیا میں کوئنزلینڈ یونیورسٹی کے ایک محقق مائیکل نوٹل نے اے ایف پی کو بتایا، "اربوں صارفین پر چھوٹے اثرات مل کر بہت زیادہ ہو جاتے ہیں"۔

انہوں نے کہا، "بڑی تعداد میں شواہد" موجود ہیں کہ سوشل میڈیا نوجوانوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ہیڈٹ اپنے سخت ترین ناقدین سے زیادہ درست اور اس سے کم درست ہیں جتنا ان کی کتاب بتاتی ہے۔"

پابندی کے ممکنہ فائدے کے پیشِ نظر ان کے نزدیک یہ "آزمائش کے قابل" ہے۔

شواہد کا جائزہ لینے کے بعد فرانس میں صحتِ عامہ کے نگراں ادارے اے این ایس ای ایس نے گذشتہ ہفتے فیصلہ دیا کہ سوشل میڈیا کے نوعمر افراد بالخصوص لڑکیوں کے لیے بہت زیادہ نقصان دہ اثرات ہیں لیکن یہ ان کی ذہنی صحت کی زوال کی واحد وجہ نہیں ہے۔

اعتدال میں سب کچھ؟

گذشتہ سال سائیکولوجیکل بلیٹن میں شائع کردہ اور نوٹیل کے زیرِ قیادت تحقیق میں دنیا کے طول و عرض میں 100 سے زائد مطالعات کا جائزہ لیا گیا جو سکرینوں کے درمیان روابط اور بچوں اور نوعمروں کو درپیش نفسیاتی و جذباتی مسائل پر تھے۔

نتائج سے ایک ایسے شیطانی چکر کا پتا چلا جو اپنے ساتھ کئی مسائل لے کر آتا ہے۔

ضرورت سے زیادہ سکرین ٹائم بالخصوص سوشل میڈیا کا استعمال اور ویڈیو گیمز کھیلنا مسائل کا باعث تھا۔ یہ پریشانی پھر نوجوانوں کو سکرینوں کی طرف اور بھی زیادہ دیکھنے پر مجبور کرتی ہے۔

تاہم دوسرے محققین مکمل پابندی کی طرف سے محتاط ہیں۔

یونیورسٹی آف ایڈیلیڈ سے تعلق رکھنے والے بین سنگھ نے JAMA پیڈیاٹرکس میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے لیے تین سالوں میں 100,000 سے زیادہ نوجوان آسٹریلوی باشندوں پر تحقیق کی۔

اس سے پتا چلا کہ صحت کی خرابی کا سب سے زیادہ شکار نوجوان وہ تھے جنہوں نے سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال کیا یعنی دن میں دو گھنٹے سے زیادہ یا بالکل نہیں کیا۔ جبکہ سوشل نیٹ ورکس کا اعتدال سے استعمال کرنے والے نوجوانوں نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

سنگھ نے اے ایف پی کو بتایا، "نتائج بتاتے ہیں کہ حد سے زیادہ پابندی اور ضرورت سے زیادہ استعمال دونوں ہی پریشانی کا باعث بن سکتے ہیں۔"

مزید یہ کہ ضرورت سے زیادہ استعمال کا لڑکیوں کو زیادہ نقصان ہوا۔ سوشل میڈیا سے مکمل محرومی لڑکوں کے لیے بعد کی نوعمری میں نقصان دہ ثابت ہوئی۔

'خوفناک حد تک زہریلا'

فرانسیسی ماہر نفسیات سرج ٹیسرون ان لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے سکرینوں سے صحت کو لاحق بڑے خطرے کے بارے میں طویل عرصے سے خبردار کیا ہے۔

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، "سوشل میڈیا خوفناک حد تک زہریلا ہے۔"

لیکن انہیں خدشہ تھا کہ ٹیکنالوجی کے استعمال میں ماہر نوعمر افراد پابندی پر آسانی سے قابو پا لیں گے اور ساتھ والدین بھی انہیں روکنے یا سزا دینے کی ذمہ داری اور خرابی کے الزام سے بری ہو جائیں گے۔

"حالیہ برسوں میں یہ بحث سراسر پابندی یا کچھ بھی نہیں کے درمیان انتہائی منقسم ہو گئی ہے،" انہوں نے ایک متوازن ضابطے پر زور دیتے ہوئے کہا۔

دوسرا ممکنہ عمل یہ ہے کہ انتظار کریں اور دیکھیں کہ آسٹریلوی تجربے کے کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں۔

کیمبرج یونیورسٹی کی محقق ایمی اوربن نے کہا، "ایک سال کے اندر ہمیں اس بارے میں بہت کچھ معلوم ہو جائے گا کہ سوشل میڈیا پر آسٹریلوی پابندی کتنی مؤثر رہی ہے اور کیا اس سے کوئی غیر ارادی نتائج برآمد ہوئے۔"

گذشتہ ہفتے آسٹریلیا کے آن لائن تحفظ کے نگران ادارے نے کہا کہ ٹیک کمپنیاں پہلے ہی 16 سال سے کم عمر افراد کے 4.7 ملین اکاؤنٹس بلاک کر چکی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں