.

ایرانی ذرائع ابلاغ کی توپوں کا رُخ لبنانی صدر کی جانب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے ایک روزنامے "جمهوری اسلامی" نے لبنانی صدر میشیل عون کے لیے ایرانی نظام کی سپورٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اخبار نے لبنانی صدر کے نئے مواقف کے سبب انہیں "وعدہ خلاف" قرار دیا۔

اخبار نے بدھ کے روز اپنی اشاعت میں لکھا ہے کہ میشل عون حزب اللہ کی حمایت سے کرسی صدارت تک پہنچے تھے مگر انہوں نے اپنا پہلا بیرونی دورہ سعودی عرب کا کیا اور وہ ایران کا دورہ کرنے سے کترا رہے ہیں۔

اخبار مزید کہتا ہے کہ عون کی سیاسی جماعت لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری کو شدید ترین نکتہ چینی کا نشانہ بنا رہی ہے اس لیے کہ نبیہ بری لبنان میں حکام کی صفوں میں شیعوں کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

ایرانی اخبار نے لبنان میں حزب اللہ ملیشیا کو درپیش صورت حال پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا کہ "لبنان میں پارلیمانی انتخابات کا وقت قریب آنے کے ساتھ ہی مختلف جماعتوں کے بہت سے نامزد امیدواروں نے یہ اعلان کر دیا کہ ان کا پروگرام حزب اللہ کا مقابلہ کرنا ہے۔ کچھ دن پہلے تک لبنان میں سماجی صورت حال حزب اللہ کے ہاتھ میں تھی مگر آج حزب اللہ کے سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ کو خود یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ اسے اپنی جان کا خطرہ ہے اور وہ بعلبک الہرمل کے علاقے میں گھر گھر جا کر خود لوگوں کو قائل کریں گے کہ ان کی جماعت کو ووٹ دیں"۔

اخبار نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ "ایرانی نظام کی جانب سے لبنان میں خرچ کیے جانے والے "اربوں ڈالر" کہاں گئے؟ اسلامی جمہوریہ ایران نے گزشتہ طویل برسوں کے دوران لبنان میں جو سیاسی اخراجات کیے اُن کا انجام کیا ہوا ؟ حالات آج جس نہج پر ہیں یہاں تک کیسے پہنچے ؟ کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ لبنان میں بڑے پیمانے پر مادی اور معنوی اخراجات پر نظر ثانی کی جائے تا کہ وہاں پر ایران کے لیے کام کرنے والی عملی قوتیں پسپا ہونے سے محفوظ رہ سکیں جیسا کہ آج ہو رہا ہے"۔