.

افغانستان : فضائی حملے میں داعش کا سرکردہ کمانڈر ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے شمالی صوبے جوزجان میں ایک فضائی حملے میں داعش کا اعلیٰ کمانڈر ہلاک ہوگیا ہے۔

افغا ن وزارت دفاع نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ جوزجان کے ضلع درزاب میں داعش کا کمانڈر قاری حکمت جمعہ کو فضائی بمباری میں ہلاک ہوا تھا۔وہ شمالی افغانستان میں داعش کا ایک سرکردہ کمانڈر تھا اور دہشت گردی کے بہت سے تباہ کن حملوں میں ملوث رہا تھا یا ان کا ذمے دار تھا۔اس کی جگہ مولوی حبیب الرحمان کو علاقے میں داعش کا نیا کمانڈر بنا دیا گیا ہے۔

داعش کے اس کمانڈر کی ہلاکت کے بارے میں صوبائی عہدے داروں میں متضاد اطلاعات دی ہیں۔صوبائی گورنر لطف اللہ عزیزی نے بھی حکمت کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے لیکن کہا ہے کہ فضائی حملہ امریکی فورسز نے کیا تھا لیکن امریکی فورسز نے اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

گورنر عزیزی کامزید کہنا تھا کہ ’’ ہمارے انٹیلی جنس ذرائع نے اس کی لاش کی شناخت کر لی ہے ۔اس کی ہلاکت سے داعش کی کی صفوں میں بھرتی کے خاتمے اور شمالی افغانستان میں داعش کے جنگجو ؤں کو منتشر کرنے میں مدد ملے گی‘‘۔

جوزجان کے صوبائی پولیس سربراہ فقیر محمد جوزجانی نے کہا ہے کہ قاری حکمت کی موت شمالی افغانستان میں داعش کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوگی ۔وہ ملک کے اس علاقے میں داعش کا بانی تھا ۔انھوں نے اس کی موت کی ایک اور کہانی بیان کی ہے اور کہا ہے کہ وہ افغان اور غیر ملکی فورسز کی ایک مشترکہ کارروائی میں مارا گیا تھا۔

واضح رہے کہ افغان اور امریکی فورسز نے حالیہ مہینوں کے دوران میں جوزجان میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی تیز کررکھی ہے ۔داعش کے جنگجوؤں نے مشرقی صوبے ننگرہار میں اپنے قدم اکھڑنے کے بعد جوزجان میں اپنے ٹھکانے بنانا شروع کردیے تھے۔

افغان سکیورٹی فورسز نے گذشتہ ماہ اسی صوبے کے نام کے ضلع جوزجان میں داعش کی ایک فرانسیسی جنگجو عورت کو گرفتار کیا تھا۔اے ایف پی کے مطابق بعض فرانسیسی اور الجزائری جنگجوؤں نے اس صوبے میں داعش میں شمولیت اختیار کی ہے۔ان میں سے بعض شام میں داعش کی شکست کے بعد افغانستان آگئے ہیں۔