شام میں فوجی طاقت کے استعمال کے سوا کوئی چارہ نہ تھا: تھریسا مے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

برطانوی وزیراعظم تھریسا مے کی جانب سے اپنی فوج کو شام میں حملے کی اجازت کے بعد امریکی اور فرانسیسی کوارڈی نیشن کو روبعمل لاتے ہوئے ہفتے کی صبح [گرنیچ کے معیاری وقت ایک ایک بجے شب] شام کے مختلف فوجی اور اہم ٹھکانوں پر میزائل حملہ کیا گیا۔

تھریسا مے نے ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شام پر حملوں کے سوا کوئی اور آپشن نہیں تھا۔ حملوں کا مقصد شامی حکومت کے کیمیائی ہتھیاروں کی صلاحیت کو ختم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حملوں کا مقصد شام میں حکومت کی تبدیلی ہے۔

حملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے برطانوی وزارت دفاع نے بتایا ہے کہ چار ٹورنیڈو جیٹ طیاروں سے کیے جانے والے برطانوی حملے میں حمص شہر کے پاس ایک فوجی ٹھکانے کو نشانہ بنایا گيا ہے۔ اس فوجی ٹھکانے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں کیمیائی ہتھیار بنانے کے سامان رکھے ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں