.

بحرین : قطر کے لیے جاسوسی میں ملوّث تین افراد کے خلاف مزید ثبوت پیش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بحرین میں پبلک پراسیکیوشن نے قطر کے لیے جاسوسی کے الزام میں تین مشتبہ ملزموں کے خلاف مزید ثبوت پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔

بحرین کی سرکاری خبررساں ایجنسی بی این اے کی رپورٹ کے مطابق قطر کے لیے جاسوسی میں ملوّث ان تینوں مشتبہ افراد علی سلمان علی احمد ، حسن علی جمعہ سلطان اور علی مہدی علی الاسود کے خلاف 12 جون کو مقدمے کا فیصلہ سنایا جائے گا۔

بحرین کے پبلک پراسیکیوٹر اسامہ العوفی کا کہنا ہے کہ ان تینوں مشتبہ افراد کے خلاف ملک سے غداری کا الزام ہے اور انھوں نے قطر سے مل کر بحرین کے خلاف مخالفانہ شرانگیز سرگرمیوں کا ارتکاب کیا تھا جس کا مقصد ملک کے سیاسی نظام کا دھڑن تختہ کرنا تھا۔

ان مشتبہ افراد کو ایک غیر ملک کو بحرین کے دفاعی راز فراہم کرنے،دفاعی راز دینے کے عوض اس ملک سے رقوم وصول کرنے اور ملک کی داخلی صورت حال کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے الزامات کا سامنا ہے۔اس کے علاوہ ان پر بحرین کی معیشت کو نقصان پہنچانے کے لیے بیرون ملک اس کے خلاف شر انگیز افواہیں اور جھوٹی کہانیاں پھیلانے اور اس کے وقار کو نقصان پہنچانے کا بھی الزام ہے۔

بحرین کا کہنا ہے کہ قطر کے سابق وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ حمد بن جاسم نے 2011ء میں حزب اختلاف کے ایک گروپ کے سربراہ علی سلمان کو حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں پر اکسایا تھا۔ان دونوں کے درمیان روابط رہے تھے اور اول الذکر نے بحرین میں 2011ء میں احتجاجی مظاہرے جاری رکھنے کی تحریک دی تھی۔ نیز قطر نے دوسرے عرب ممالک کی طرح بحرین میں بھی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے دہشت گرد گروپوں کی حمایت کی اور اس کی قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی۔

واضح رہے کہ چار خلیجی عرب ممالک سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، بحرین اور مصر نے جون 2017ء سے قطر کے ساتھ سیاسی ، سفارتی اور تجارتی تعلقات او ر زمینی وفضائی رابطے منقطع کر رکھے ہیں۔ ان ممالک نے قطر پر دہشت گردی کی مالی اور سیاسی حمایت اور خلیجی ممالک کے مفادات کی قیمت پر ایران کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے الزامات عاید کیے تھے ۔تاہم قطر نے ان الزامات کو مسترد کر دیا تھا۔