حوثی ملیشیا کا صنعاء میں ایک ہوٹل کے مخلوط اجتماع والے قہوہ خانے پر دھاوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یمن کے دارالحکومت صنعاء میں حوثی ملیشیا کے جنگجوؤں نے برج السلام ہوٹل کے قہوہ خانے ( کافی شاپ) میں چھاپا مار کارروائی کی ہے اور مرد وخواتین صارفین کو خدمات مہیا کرنے کے الزام میں اس کے دو ملازمین کو گرفتار کر لیا ہے۔

یہ کوئی پہلا موقع نہیں جب حوثیوں نے مخلوط صارفین کو خدمات مہیا کرنے والے کسی کیفے میں چھاپا مار کارروائی کی ہے۔انھوں نے اس سے پہلے صنعاء ہی میں واقع ’’ بون اور قشر‘‘ اور ’’مون کیفے ‘‘ نامی دو قہوہ خانوں میں بھی چھاپا مار کارروائیاں کی تھیں ۔

حوثیوں کے ایک قہوہ خانے پر دھاوے کے وقت موجود علی القباطی نامی ایک شہری نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا ہے کہ ’’میں نے ان کے رویے پر اعتراض کیا تھا جس پر انھوں نے مجھے محض اس بنا پر گرفتار کر لیا تھا کہ میں نے نیکلس اور جین پہن رکھی تھی‘‘۔

اس شہری نے مزید بتایا کہ ’’حوثیوں نے مجھے کہا ، میں بے حیائی پھیلا رہا ہوں ۔ پھر انھوں نے ایک عہد نامے پر دستخط لیے اور مجھ اس وعدے پر چھوڑ دیا تھا میں آیندہ کسی قہوہ خانے میں نہیں جاؤں گا‘‘۔

یمنی دارالحکومت اور دوسرے شہروں میں قہوہ خانوں میں عام طور پر فن کار اور سماجی کارکنان مل بیٹھتے ہیں لیکن حوثی باغی وہاں جانے والوں پر یہ الزام عاید کرتے ہیں کہ وہ ان کی مزعومہ ’’فتح مبین ‘‘ میں تاخیر کا سبب بن رہے ہیں۔

حوثی تحریک کے سربراہ عبد الملک الحوثی کئی مرتبہ مرد وخواتین کو مخلوط اجتماعات پر خبردار کر چکے ہیں اور انھوں نے اپنے جنگجوؤں کو ایسے افراد کو ہراساں کرنے اور قہوہ خانوں کے مالکان کو بلیک میل کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔وہ انگریزی زبان سیکھانے کے مراکز پر مرد وخواتین کو مخلوط اجتما ع کی اجازت دینے اور امریکا کے لیے جاسوسی کے الزامات عاید کرتے ہیں ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں