.

فلپائن نے روزگار کے لیے کویت جانے کے خواہاں شہریوں پر عاید پابندی ختم کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلپائن نے روزگار کے سلسلے میں کویت جانے کے خواہاں اپنے ورکروں پر عاید پابندی ختم کردی ہے۔فلپائنی حکومت کے اس فیصلے سے دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی کشیدگی کے خاتمے کی راہ بھی ہموار ہوگئی ہے۔

فلپائنی صدر کے ترجمان ہیری روک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ صدر روڈریگو روآ ڈیوٹرٹ نے آج ( بدھ کی )رات سیکریٹری سلویسٹر بیلو کو کویت میں فلپائنی ورکروں کو بھیجنے پر عاید پابندی مکمل طور پر ختم کرنے کی ہدایت کی ہے‘‘۔

اس خبر سے چند روز قبل ہی کویت اور فلپائن کے درمیان ہزاروں فلپائنی تارکین وطن ورکروں کی ملازمتوں کو باضابطہ بنانے اور تحفظ کے لیے ایک سمجھوتا طے پایا تھا۔اس کے تحت فلپائنی خادماؤں کو اپنے سیل فون اور پاسپورٹس بعض شرائط کے ساتھ پاس رکھنے کی اجازت ہوگی۔

واضح رہے کہ فلپائنی صدر روڈریگو ڈیوٹرٹ نے جنوری میں اپنے شہریوں کو کویت میں بھیجنے پر پابندی عاید کردی تھی اور انھوں نے یہ فیصلہ کویت میں فلپائنی تارکین وطن سے مبینہ ناروا سلوک کی اطلاعات اور ایک گھریلو ملازمہ کے ایک گھر کے فریزر میں مردہ حالت میں پائے جانے کے واقعے کے بعد کیا تھا۔

ڈیوٹرٹ نے یہ سنگین الزام عاید کیا تھا کہ عرب آجر فلپائنی ملازماؤں کی عصمت ریزی کرتے ہیں ۔ان سے اکیس کیس گھنٹے کام لیا جاتا ہے اور انھیں بچا کھچا کھانا دیا جاتا ہے۔فلپائنی گھریلو ملازمہ کی موت کے واقعے اور صدر روڈریگو کے تند وتیز بیانات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔

کویت میں فلپائنی سفارت خانے کے عملہ نے گھریلو ملازماؤں کونکالنے کے لیے ’’ ریسکیو ‘‘ کے نام پر ایک کارروائی بھی کی تھی اور کویت شہر میں بعض گھروں سے فلپائنی ملازم خواتین کو ان کے آجروں کی مرضی کے بغیر سفارت خانے میں منتقل کردیا تھا۔ کویت نے اس کو اپنی خود مختاری کی خلاف ورزی قرار دیا تھا اور اس نے فلپائنی سفیر کو ملک سے واپس چلے جانے کی ہدایت کی تھی اور منیلا میں متعیّن اپنے سفیر کو واپس بلا لیا تھا۔اس کے بعد سے کویت اور فلپائن کے درمیان جاری سفارتی بحران شدت اختیار کر گیا تھا۔

فلپائنی حکومت کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق کویت میں اس وقت دو لاکھ 65 ہزار کے لگ بھگ فلپائنی تارکینِ وطن کام کررہے ہیں۔ان میں 65 فی صد گھریلو ملازمین کے طور پر کام کرتے ہیں ۔ان تارکین وطن کی کمائی فلپائن میں کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے بڑی اہمیت حامل ہے اور ان کی ترسیلات زر کا فلپائنی معیشت کا پہیا چلانے میں بھی اہم کردار ہے۔