بلوچ عسکریت پسند گروپ نے یرغمال ایرانی پولیس اہلکار کی ویڈیو جاری کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان میں سرگرم بلوچ عسکریت پسند گروپ ’جیش العدل‘ نے یرغمال بنائے گئے ایک ایرانی پولیس کے ایک اہلکار کی ویڈیو جاری کی ہے جس میں اسے بقید حیات اور صحت مند دکھایا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بلوچ تنظیم کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی فوجی سعید براتی کو 26 اپریل 2017ء کو میر جاوہ نامی علاقے سے فائرنگ کے تبادلے کے بعد یرغمال بنایا گیا تھا۔ یرغمال بنائے جانے کے وقت پولیس اہلکار زخمی تھا اور بعد ازاں اس کے دوران قید انتقال کر جانے کی خبریں بھی آتی رہی ہیں۔

تاہم ’جیش العدل‘ نے ویڈیو جاری کرکے یہ دعویٰ کیا ہے کہ یرغمال ایرانی پولیس اہلکار بقید حیات ہے۔

جیش العدل کی طرف سے یرغمال ایرانی پولیس اہلکار کی ویڈیو جاری کی ہے تاہم اس کی رہائی کے بدلے میں اپنا کوئی مطالبہ پیش نہیں کیا۔

خیال رہے کہ سعید براتی کو بلوچ گروپ نے 26 اپریل 2017ء کو میر جاوہ کے مقام سے اغوا بنایا تھا۔ اس موقع پر جھڑپ میں ایران کی سرحدی فورس کے 10 اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

ایک ماہ قبل ایرانی سرحدی فورس نے دعویٰ کیا تھا کہ میر جاوہ کارروائی میں ملوث متعدد بلوچ جنگجوؤں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ایرانی سرحدی فورس کے افسر قاسم سعیدی کا کہنا تھا کہ گرفتار افراد کو جلد ہی کیفر کردار تک پہنچا دیا جائے گا۔

اس واقعے کے بعد پاکستان میں متعین ایرانی سفیر مہدی ارن دوست نے پاکستان سے ایران کی سرحد پر سیکیورٹی اہلکاروں کی تعداد میں مزید اضافے کا مطالبہ کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں