.

خطّے میں ایران کی "مُعاندانہ" روش پر روک لگانا چاہیے: جرمن چانسلر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمن چانسلر اینگلا میرکل کا کہنا ہے کہ یورپی ممالک ایرانی بیسلٹک میزائل پروگرام کے حوالے سے تشویش کا شکار ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مشرق وسطی میں تہران کے "معاندانہ" رویّے کو قابو میں کرنے کے لیے کوئی حل تلاش کیا جائے۔

عَمّان میں اردن کے فرماں روا شاہ عبداللہ دوم سے ملاقات کے بعد جرمن چانسلر کا کہنا تھا کہ "ایران کی معاندانہ روش کو محض زیر بحث لانے پر اکتفا نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ ہمیں فوری حل کی ضرورت ہے"۔

مئی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی جوہری معاہدے سے علاحدگی کے باوجود جرمنی ابھی تک اس سمجھوتے پر کاربند ہے۔

میرکل کا کہنا تھا کہ اگرچہ یورپی ممالک جولائی 2015ء میں طے پائے جانے والے اس معاہدے کو برقرار رکھنے کے خواہش مند ہیں تاہم ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام، شام میں تہران کی موجودگی اور یمن کی جنگ میں ایران کا کردار اِن ممالک کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

اس موقع پر اردن کے فرماں روا نے کہا کہ مشرق وسطی میں امن کا خواب اس وقت تک پورا نہیں ہو سکتا جب تک ایک فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں نہیں آتا جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو۔

شاہ عبداللہ نے پیر کے روز اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے اور منگل کے روز خطے کے لیے امریکی صدر کے نمائندے جیرڈ کُشنر سے ملاقات کی تھی۔

جرمن چانسلر اینگلا میرکل بدھ کے روز اردن کے سرکاری دورے پر دارالحکومت عمّان پہنچی تھیں۔ شاہ عبداللہ دوم کے ساتھ اُن کی بات چیت میں دونوں ملکوں کے درمیان تعاون اور شراکت داری کے علاوہ حالیہ علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت کو زیر بحث آنا تھا۔