واشنگٹن نے ترکی کو روس سے میزائل سسٹم خریدنے سے خبردار کر دیا !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی وزارت خارجہ کے ایک سینئر عہدے دار نے منگل کے روز ترکی کو خبردار کیا ہے کہ جب تک انقرہ روس سے S-400 میزائل دفاعی سسٹم کی خریداری کے منصوبے سے دست بردار نہیں ہوتا اُس وقت تک ترکی کا F-35 لڑاکا طیاروں کی خریداری کا معاملہ خطرے میں رہے گا۔

یورپ اور ایشیا کے امور سے متعلق امریکی وزیر خارجہ کے معاون ویس مچل نے سینیٹ کے سامنے گفتگو میں کہا کہ اگر ترکی نے روس سے یہ نظام خریدا تو وہ امریکی قانونی بِل کے تحت پابندیوں کا شکار ہو گا۔ اس بِل پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ برس کے موسم گرما میں دستخط کیے تھے۔

مچل کا کہنا تھا کہ "ہم اس حوالے سے مکمل طور پر واضح موقف رکھتے ہیں۔ لہذا S-400 نظام کا حاصل کرنا حتمی طور پر امریکا کے ساتھ عسکری تعاون کے مواقع کو متاثر کرے گا۔ اس میں F-35 بھی شامل ہے"۔

واشنگٹن اور انقرہ کے بیچ تعلقات گزشتہ چند ماہ میں متعدد امور کے سبب کشیدہ ہو گئے ہیں۔ ان میں ترکی میں زیر حراست امریکی شہریوں کے حوالے سے مقدمہ دائر کرنا بھی شامل ہے۔

مچل کے اندازے کے مطابق ترکی میں 25 کے قریب امریکی زیر حراست ہیں۔ ان میں بہت سے افراد دُہری شہریت کے حامل ہیں۔

البتہ مچل نے نیٹو اتحاد کے رکن ترکی کو سراہا بھی اور داعش تنظیم کے خلاف مہم میں انقرہ کی سپورٹ کے سبب اسے ایک سرگرم حلیف اور شراکت دار قرار دیا۔ مچل کا کہنا تھا کہ "ہم ان کے ساتھ انٹیلی جنس اور دیگر کئی شعبوں میں تعاون حاصل کر رہے ہیں"۔

دوسری جانب ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کے دفتر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج ٹیلیفون پر ایردوآن سے رابطے میں صدارتی انتخاب جیت جانے پر مبارک باد پیش کی۔ دونوں سربراہان نے دفاع اور سکیورٹی کے شعبوں میں دو طرفہ تعلقات کو بہتر بنانے پر اتفاق کیا۔

سینیٹ میں خطاب کے دوران ویس مچل کا کہنا تھا کہ امریکی انتظامیہ سمجھتی ہے کہ اس کے پاس یہ قانونی اختیار ہے کہ وہ ضرورت پڑنے پر کانگریس کی جانب سے قانون سازی کے بغیر ترکی کو عسکری طیاروں کی فروخت روک دے۔

امریکی کمپنی لوک ہیڈ مارٹن نے گزشتہ ہفتے ترکی کے لیے پہلے (F-35) لڑاکا طیارے کی نمائش کے موقع پر ایک تقریب کا اہتمام کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں