.

یمن کے مغربی ساحلی علاقے میں حوثیوں کی پھیلی قبریں، بھاری جانی نقصان کی عکاس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے مغربی ساحلی علاقے میں حالیہ دنوں کے دوران میں حوثی ملیشیا کا عرب اتحاد کے فضائی حملوں اور یمنی فوج کے خلاف لڑائی میں بھاری جانی نقصان ہوا ہے اور ان کی قبریں تعز کے ضلع حیس سے ساحلی شہر ہادیہ تک پھیلی ہوئی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق جون کے وسط کے بعد سے حوثیوں کے ڈیڑھ ہزار سے زیادہ جنگجو ہلاک ہوچکے ہیں۔حیس ، الحدیدہ اور تہتہ میں گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران میں عرب اتحادی فوج اور یمنی فوج کے ساتھ شدید لڑائی میں حوثیوں کے بہت سے نظریاتی لیڈر بھی مارے گئے ہیں۔

ان میں معروف حوثی لیڈر ابو عماد ہنیشہ بھی شامل ہے۔ وہ الحدیدہ کے جنوب میں حوثی ملیشیا کے سکیورٹی امور کا نگران تھا۔وہ تہتہ میں اپنے محافظوں کے ساتھ ایک فضائی حملے میں مارا گیا تھا۔ اسی علاقے میں ایک اور حوثی لیڈر اسماعیل عبداللہ یحییٰ زید الحوثی بھی اپنے متعدد ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگیا تھا۔

اسماعیل حوثی لیڈر عبداللہ یحییٰ زید الحوثی کا بیٹا ہے۔یہ صاحب حوثیوں کی باغی حکومت کے تحت وزارت انصاف میں انڈر سیکریٹری کے منصب پر فائز ہیں ۔

یمن کے شمال مغرب میں واقع گورنری عمران میں حوثی لیڈر ولید حسین السراجی اپنے دسیوں ساتھیوں سمیت عرب اتحاد کے ایک فضائی حملے میں مارا گیا ہے۔یہ لوگ ایک قافلے کی شکل میں یمن کے مغربی ساحلی علاقے کی جانب جارہے تھے۔ولید السراجی عمران میں حوثیوں کے ایک تربیتی کیمپ کا ذمے دار تھا۔

حالیہ دنوں میں الحدیدہ کے مختلف علاقوں میں عرب اتحاد کے فضائی حملوں میں حوثی ملیشیا کے متعدد سرکردہ جنگجو لیڈر مارے گئے ہیں۔ان میں الحدیدہ میں اسلحے کا ذمے دار حوثی لیڈر مازن الحضری اور ایک کمانڈر عبدالکریم مروان بھی شامل ہے۔ مغربی ساحلی علاقے میں ایک اور حوثی لیڈر عبدالقادر عباس شرف الدین اپنے متعدد ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق مغربی ساحلی علاقے میں عرب اتحاد کے فضائی حملوں میں ہلاک ہونے والے حوثی ملیشیا کے بیشتر ارکان کا تعلق ہاشمی قبیلے سے ہے اور اس کا حوثی ملیشیا کے لیڈر عبدالملک الحوثی سے قبیلے سے قریبی تعلق ہے۔اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حوثیوں کو اب دوسرے قبائل سے کمک حاصل نہیں ہورہی ہے اور وہ اپنے قریبی قبائل ہی کو جنگ میں جھونک رہے ہیں۔