.

ایران 100 برس پیچھے چلا گیا ہے : محمد خاتمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سابق صدر اور اصلاح پسند رہ نما محمد خاتمی نے حکمراں "نظام کے سقوط" سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوریت اور انصاف کے حوالے سے ملک 100 برس پیچھے چلا گیا ہے۔

اتوار کے روز اصلاح پسند نوجوانوں کے ایک گروپ کے ساتھ ملاقات کے دوران خاتمی بدعنوانی، غربت اور امتیاز کے پھیل جانے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جن کے نتیجے میں حالیہ عوامی احتجاج کی لہر سامنے آئی ہے۔

خاتمی کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق سابق صدر نے خبردار کیا کہ بدعنوانی نے ایران کے وجود اور انقلاب دونوں کو ایک ساتھ خطرے میں ڈال دیا ہے۔

خاتمی جن کو ایرانی رہبرِ اعلی علی خامنہ ای نے اپنی سیاسی سرگرمیاں محدود کر دینے کی ہدایات دے رکھی ہیں، ان کا کہنا تھا کہ "موجودہ نظام بدعنوانی کے انسداد اور انصاف کو یقینی بنانے میں ناکام ہو چکا ہے اور یہ صرف اصلاح پسندوں اور قدامت پسندوں تک محدود نہیں"۔

خاتمی کے مطابق اس وقت اولین ترجیح "ایران کو بچانا" اور "خطرے کو دُور کرنا" ہے۔ انہوں نے اصلاح پسندوں پر زور دیا کہ وہ ملک سے مخلص اور وفادار عناصر کے ساتھ مل کر کام کریں اس محاذ پر تبدیلی کے واسطے اقدامات کریں۔

یاد رہے کہ خاتمی نے رواں برس جنوری میں عوامی احتجاج پر منفی موقف اپنایا تھا جس کے سبب انہیں اصلاح پسند کارکنان کی جانب سے وسیع پیمانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ سابق صدر کے اس موقف کے بارے میں کہا گیا کہ یہ علی خامنہ ای سے قریب ہونے کی ایک کوشش تھی۔

اُس موقع پر محمد خاتمی کے زیر قیادت مذہبی شخصیات کی انجمن نے ایک بیان میں عوام سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ احتجاج کے بجائے اپنے مطالبات کو پورا کرنے کے واسطے "اصلاحی" اور "قانونی" طریقہ کار اپنائیں۔ اس بیان نے اصلاح پسند حلقوں کی صفوں میں شدید غم غصّے اور انحراف کی لہر دوڑا دی تھی۔