اسرائیلی فوج نے شام کا لڑاکا طیارہ مار گرایا ،گولان کے نزدیک لڑائی میں شدت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اسرائیلی فوج نے شام کا ایک لڑاکا طیارہ مارگرایاہے۔اس نے دعویٰ کیا ہے کہ شامی طیارے کو اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کی چوٹیوں کے اوپر آنے پر مار گرایا گیا ہے جبکہ شام نے کہا ہے کہ اس طیارے کو باغیوں کے خلاف کارروائی کے دوران میں اس کی فضائی حدود میں میزائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

گذشتہ چند روز میں منگل کو دوسری مرتبہ اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کے علاقے میں سائرن بجائے گئے ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ انھوں نے دو میزائل فضا کی جانب جاتے دیکھے ہیں۔اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے شام کے سخوئی جیٹ کے اسرائیل کے کنٹرول میں گولان کی چوٹیوں کی فضائی حدود میں دو کلومیٹر اندر گھس آنے کے بعد پہلے ایک پیٹریاٹ میزائل خبردار کرنے کے لیے داغا تھا اور اس کے بعد دوسرے میزائل سے اس کو مار گرایا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل جوناتھن کونریکس نے کہا ہے کہ ’’یہ طیارہ گر کر تباہ ہوگیا ہے اور زیادہ امکان یہ ہے کہ یہ شامی گولان کی چوٹیوں کے جنوبی حصے میں گرا ہے۔ہمیں اس کے پائیلٹوں کے بارے میں کوئی اطلاع ہے اور نہ پیراشوٹس کے ذریعے ان کے اترنے کی کوئی اطلاع سامنے آئی ہے‘‘۔

دوسری جانب شام کے سرکاری میڈیا نے کہا ہے کہ اس طیارے کو شام کی فضائی حدود میں میزائل سے مار گرایا گیا ہے ۔ اس وقت وہ باغیوں کے خلاف فضائی کارروائی میں شریک تھا۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا نے ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے کہا ہے کہ ’’ اسرائیلی دشمن نے مسلح دہشت گرد گروپوں کے لیے اپنی حمایت کی تصدیق کردی ہے اور اس نے ہمارے ایک طیارے کو نشانہ بنایا ہے۔وہ شام کی فضائی حدود میں سیدا کے علاقے میں باغی گروپوں کو نشانہ بنا رہا تھا‘‘۔

اسرائیل کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ شامی صدر بشارالاسد گولان کی چوٹیوں پر اقوام متحدہ کے وضع کردہ غیر فوجی علاقے کو توڑنے کی کوشش کرسکتے ہیں یا وہ ایرانیوں اور لبنانی حزب اللہ کو گولان کے نزدیک تعینات کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔

اسرائیل اور شام کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر روس نے دونوں ممالک کے درمیان مصالحتی کوششیں شروع کردی ہیں ۔اس نے اپنے وزیر خارجہ سرگئی لاروف اور ایک اعلیٰ جرنیل کو سوموار کو اسرائیل روانہ کیا تھا جہاں انھوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے بات چیت کی تھی۔

اسرائیلی حکام کے مطابق نیتن یاہو نے روس کی جانب سے ایرانی فورسز کو گولان کی سرحد سے ایک سو کلومیٹر دور رکھنے کی پیش کش کو ناکافی قرار دے کر ٹھکرا دیا ہے۔

رائیٹرز کے مطابق اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کی چوٹیوں کے جنوب میں شام کی فضائی حدود میں سوموار کو متعدد لڑاکا طیارے اور ہیلی کاپٹر دیکھے گئے تھے اور وہ باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر بم گرا رہے تھے۔گولان کے ساتھ واقع صوبہ القنیطرہ میں شامی فوج روس کی مدد سے باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں کو واپس لینے کے لیےایک بڑی کارروائی کررہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں