جبری برطرف یوکرینی فوجی کا انتہائی اقدام، خود سوزی کی ناکام کوشش
یوکرین کے دارالحکومت "کیو" میں وزارت دفاع کی عمارت کے سامنے ایک فوجی نے خود سوزی کر لی۔ مذکورہ فوجی اور اس کے بعض ساتھیوں کو دو سال قبل فوج سے نکال دیا گیا تھا۔ اس فیصلے کو غیر منصفانہ محسوس کرتے ہوئے مذکورہ فوجی Serhii Ulianov نے احتجاج شروع کیا اور اس دوران اپنی فوجی وردی میں ہی ملبوس رہا۔ جمعرات کے روز اولیانوف نے مقامی میڈیا کے سامنے خود پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا لی۔
اولیانوف کی عمر 20 سے 30 برس کے درمیان ہے۔ اس نے بدھ کے روز اپنے ساتھیوں کو دھمکی دی تھی کہ وہ جبری طور پر نکالے جانے کے خلاف احتجاجا وزارت دفاع کے سامنے خودکشی کر لے گا۔ اس کے بعد اولیانوف نے 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں اپنی دھمکی پر عمل کر لیا۔ یوکرین کی نیوز ویب سائٹ UNIAN کے مطابق مذکورہ فوجی نے پہلے جائے وقوعہ پر موجود صحافیوں سے اپنے اور اپنے ساتھیوں کی فوج سے بے دخلی پر گفتگو کی۔ اس کے بعد سب سے دُور جا کر خود کو ہلاک کرنے کی کوشش کر گزرا۔
عجیب بات یہ ہے کہ جائے وقوع پر موجود بعض افراد اُن دیگر افراد کی راہ میں حائل ہو گئے جنہوں نے اولیانوف کو خودکشی سے روکنے کی کوشش کی۔ اس دوران اس کے ایک ساتھی نے کیمیائی مواد چھڑک کر اولیانوف کے کپڑوں میں لگی آگ کو بجھایا اور اسے ابتدائی ہنگامی امداد دی گئی۔ بعد ازاں اولیانوف کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ آگ کے سبب ان کے جسم کو کافی نقصان پہنچا اور چہرے، گردن اور ہاتھ بڑی حد تک جل گئے۔