.

نیویارک ہوائی اڈے کی ملازمہ کو قطر کی طرف سے رشوت دینے کا انکشاف

رشوت طیاروں کو اقوام متحدہ کے طیاروں کے مقام پر کھڑا کرنے کے لیے دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ قطری حکومت امریکا کے نیویارک شہر میں قائم بین الاقوامی ہوائی اڈے کی خاتون ملازمہ کو مسلسل پانچ سال تک رشوت دیتی رہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق نیویارک کی کینیڈی ایئرپورٹ کی انتظامیہ میں شامل مارلین میٹزی کو قطر کی طرف سے اس لیے رشوت دی گئی کہ وہ قطری طیاروں کو رات کے وقت اقوام متحدہ کے جہازوں کے لیے مختص جگہ پر کھڑے کرنے کی اجازت دیں۔ یہ سلسلہ مسلسل پانچ سال تک جاری رہا ہے۔

نیویارک ریاست کے پراسیکیوٹر کی طرف سے 54 سالہ میٹزی پر الزام عاید کیا گیا ہے کہ اس نے رقوم اور بعض دیگر قیمتی چیزیں وصول کر کے ہوائی اڈے کے سرکاری پروٹوکول اور ضابطے کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔

اسی کیس کیس میں اقوام متحدہ میں قطری ہائی کمیشن کے ایک سفری رابطہ کار 58 سالہ جوزف جوریہ پر الزام ہے کہ وہ مارلین میٹزی تک کھانا پہنچاتا اور ٹرانسپورٹ کے لیے لگژری کاریں مہیا کرتا رہا ہے۔ اس کے علاوہ اس نے ایک قیمتی گھڑی بھی اسے رشوت کے طور پر دی تھی۔

امریکی پراسیکیوٹر کی جانب سے دونوں ملزمان کے خلاف تحقیقات جاری ہیں تاہم ان کا باقاعدہ ٹرائل کب شروع ہوگا اس کی تاریخ کا تعین نہیں کیا گیا۔ جرم ثابت ہونے پرانہیں چار سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

میٹزی کو جون میں کام سے روک دیا گیا تھا جب کہ اس پر یہ الزامات سنہ 2014ء کے عرصے کے دوران کے ہیں۔