.

اٹلی اور فرانس کے درمیان موٹروے پر پُل اچانک منہدم ، 30 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس اور اٹلی کے درمیان واقع مرکزی شاہراہ پر ایک پل اطالوی شہر جینو آ میں شدید طوفان باد وباراں کے دوران میں اچانک گر گیا ہے جس کے نتیجے میں تیس افرا د ہلاک اور آٹھ شدید زخمی ہوگئے ہیں ۔

اٹلی کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق فرانس اور اٹلی کے درمیان موٹروے پر واقع مورانڈی پُل قریباً تین سو فٹ ( 90 میٹر) اونچا تھا اور 260 فٹ ( 80 میٹر) طویل تھا۔ منگل کے روز پل ٹوٹنے کے بعد کاروں اور ٹرکوں سمیت بیس گاڑیاں نیچے گہرائی میں عمارتوں پر جا گریں۔

ایک امدادی کارکن کا کہنا ہے کہ پل سے گرنے والی گاڑیاں پچک کر رہ گئی ہیں اور بعض مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہیں۔ان سے دو افراد کو زندہ حالت میں نکال لیا گیا ہے اور انھیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسپتال میں منتقل کیا جارہا ہے۔

اٹلی کی وزارت داخلہ نے اس حادثے میں گیارہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا اندیشہ ہے۔

ایک نجی نشریاتی ادارے اسکائی ٹی جی 24 نے اطلاع دی ہے کہ مورانڈی پل کا 200 میٹر ( 650 فٹ ) حصہ ایک صنعتی زون پر منہدم ہو کر گرا ہے اور اس کا ٹنوں وزنی لوہا اور کنکریٹ کا ملبہ نیچے واقع گوداموں پر گرا ہے۔

اٹلی کی خبررساں ایجنسی انسا کا کہنا ہے کہ پل کا ڈھانچا کمزور ہوچکا تھا ،اسی لیے وہ دھڑام سے نیچے آ گرا ہے۔تاہم حکام نے فوری طور پر حادثے کے اسباب کی وضاحت نہیں کی ہے کہ یہ پل کیوں گرا ہے۔اٹلی کے ٹرانسپورٹ کے وزیر ڈانیلو ٹونینلی نے اس کو ایک بڑا المیہ قرار دیا ہے۔جائے حادثہ پر قریباً 200 فائر فائٹر امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں ۔

جس شاہراہ پر پل گرا ہے، یہ اٹلی اور فرانس کو ملانے کے علاوہ میلان اور دوسرے شمالی شہروں کو لیگوریا کے ساحل سمندر سے بھی ملاتی ہے۔اس پل کا 1967ء میں افتتاح کیا گیا تھا۔یہ حادثہ اٹلی میں موسم گرما کی بدھ کو فیرا گوسٹو کی بڑی چھٹی سے ایک روز قبل پیش آیا ہے۔ اس چھٹی کے روز ٹریفک کا معمول سے زیادہ رش ہوتا ہے اور اطالوی شہری اپنے علاقوں سے سواحل سمندر اور پہاڑوں کا رُخ کرتے ہیں۔