.

فلسطینیوں کا ایک نئی فورس کے ذریعے دفاع کیا جاسکتا ہے: یو این سیکریٹری جنرل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے ایک نئی رپورٹ میں اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں میں فلسطینیوں کے تحفظ کے لیے دو تجاویز پیش کی ہیں اور کہا ہے کہ اس مقصد کے لیے یا تو مسلح فوج اور پولیس فورس تشکیل دی جائے یا برسرزمین اقوام متحدہ کی موجودگی میں اضافہ کیا جائے۔

اقوام متحدہ کے سربراہ نے جمعہ کی شب یہ رپورٹ عالمی ادارے کے رکن ممالک میں تقسیم کی ہے۔انھوں نے کہا کہ ان ہر دو آپشن پر عمل درآمد کے لیے اسرائیل اور فلسطینیوں کا تعاون درکار ہوگا۔نیز تشدد کی کارروائیوں کو روکا جانا چاہیے۔

لیکن اسرائیل مقبوضہ فلسطینیوں علاقوں میں اقوام متحدہ یا اس کے بغیر کسی مسلح فورس کے قیام کی شاید ہی حمایت کرے ۔انتونیو گوٹیریس نے چودہ صفحات پر مشتمل یہ رپورٹ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جون میں منظور کردہ ایک قرارداد کے جواب میں تیار کی ہے۔

اس قرارداد میں اسرائیل کو غزہ کی پٹی میں تشدد اور طاقت کے وحشیانہ استعمال کا ذمے دار قرار دیا گیا تھا۔اس میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل پر زوردیا گیا تھا کہ وہ عالمی میکانزم کے تحت فلسطینیوں کے تحفظ کے لیے سفارشات اور تجاویز مرتب کرکے پیش کریں ۔

انھوں نے اس رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیل کے گذشتہ پچاس سال سے زیادہ عرصے سے جاری فوجی قبضے ، مستقل سکیورٹی خطرات ، کم زور سیاسی اداروں اور امن عمل میں تعطل کے نتیجے میں فلسطینیوں کا تحفظ ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ سیاسی ، قانونی اور عملی طور پر بہت ہی پیچیدہ عمل بن چکا ہے۔

سیکریٹری جنرل نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ اسرائیلی ، فلسطینی دیرینہ تنازع کے سیاسی حل کے ذریعے فلسطینی شہریوں کو تحفظ مہیا کیا جا سکتا ہے۔ جب تک تنازع کا کوئی حل نہیں نکلتا ،اس وقت تک جنرل اسمبلی کے تمام 193 رکن ممالک کو فلسطینی آبادی کے تحفظ کے لیے تمام عملی اور قابل اعتماد اقدامات پر غور کرنا چاہیے۔ان کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے اسرائیلی شہریوں کو بھی تحفظ ملے گا۔

گوٹیریس نے اس رپورٹ میں چار نکات یا آپشنز پر توجہ مرکوز کی ہے۔ان میں اول انھوں نے فلسطینی علاقوں میں اقوام متحدہ کے کارکنان اور عملہ کی تعداد میں اضافے پر زوردیا ہے اور کہا ہے کہ اس طرح عالمی برادری فلسطینیوں کے تحفظ کے عمل کی نگرانی موثر بنا سکے گی اور وہ اس مقصد کے لیے پیشگی حفاظتی اقدام کرسکے گی۔

دوم ، انھوں نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ فلسطینیوں کے تحفظ کے لیے اضافی وسائل مہیا کیے جائیں۔اقوام متحدہ کے موجودہ پروگراموں ، انسانی اور ترقیاتی امداد میں اضافہ کیا جائے۔اس طرح سے بھی فلسطینیوں کی ضروریات موثر طور پر پوری ہوسکتی ہیں۔

سوم ، انھوں نے ایک یہ تجویز پیش کی ہے کہ اقوام متحدہ کے تحت یا اس کے بغیر شہریوں کا ایک مبصر مشن تشکیل دیا جائے۔اس کو فلسطینی شہریوں کے تحفظ اور ان کی بھلائی سے متعلق رپورٹ دینے کا مینڈیٹ حاصل ہو۔انھیں حساس علاقوں جیسے چیک پوائنٹس ، غزہ کی باڑ اور یہودی آبادکاروں کی بستیوں کے نزدیک واقع جگہوں پر تعینات کیا جائے۔

چہارم ،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر سلامتی کونسل منظوری دے تو اقوام متحدہ فلسطینیوں کے تحفظ کے لیے مسلح فوج یا پولیس فورس مہیا کرسکتی ہے۔یہ فورس شہریوں کے خلاف کسی بھی جارحیت کا سدباب کرے گی اور انھیں تحفظ مہیا کرے گی۔ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مینڈیٹ کے تحت ہم خیال ممالک کا گروپ فلسطینی شہریوں کے تحفظ کے لیے ایسی فور س مہیا کرسکتا ہے۔

سیکریٹری جنرل نے رپورٹ میں مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کی بستیوں میں توسیع پر اسرائیل پر کڑی تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ ان کی تعمیر و توسیع کا بلا روک ٹوک سلسلہ جاری ہے۔اسرائیل کا یہ اقدام بین الاقوامی قانون کی ننگی خلاف ورزی ہیں۔انھوں نے فلسطینیوں کے خلاف طاقت کے مہلک استعمال پر بھی اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور غزہ سے اسرائیلی علاقوں کی جانب راکٹوں اور میزائلوں کے حملوں کی مذمت کی ہے جس کی وجہ سے ان کے بہ قول اسرائیلی شہریو ں کی جانوں کے لیے بھی خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔