.

ایرانی سخت گیروں کی تنقید کی زد میں صدر حسن روحانی کا اتحاد پر زور

ملک کو درپیش مسائل سے نمٹنا اور غیرملکی سازشوں کی مزاحمت ہر کسی کی ذمے داری ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی صدر حسن روحانی نے ملک کو درپیش مسائل اور امریکا کی اقتصادی پابندیوں سے نمٹنےکے لیے اتحاد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

حسن روحانی کو ملک میں حالیہ احتجاجی مظاہروں اور اقتصادی پابندیوں سے پیدا ہونے والے بحران سے نمٹنے میں ناکامی کے بعد تنقید کا سامنا ہے۔ انھوں نے ہفتے کے روز ایران کے انقلابی لیڈر آیت اللہ روح اللہ خمینی کی قبر پر ایک تقریر میں کہا کہ ’’اب کسی کے کاندھوں پر بوجھ ڈالنے کا وقت نہیں بلکہ ہمیں ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے‘‘۔

انھوں نے کہا:’’ ملک کو درپیش مسائل سے نمٹنا اور غیرملکی سازشوں کی مزاحمت ہم میں سے ہر کسی کی ذمے داری ہے‘‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’’ ہم لوگوں کے درد، مصائب ،مشکلات اور مسائل سے آگاہ ہیں۔ہم ان مسائل میں کمی کے لیے تمام کوششیں بروئے کار لارہے ہیں‘‘۔

ان کا اشارہ ملک میں حالیہ مہینوں کے دوران میں بڑھتی ہوئی مہنگائی ، افراطِ زر کی شرح میں اضافے اور ایرانی کرنسی کی قدر میں مسلسل کمی سے پیدا ہونے والے مسائل کی جانب تھا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےمئی میں ایران سے جولائی 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے سے علاحدگی اختیار کرلی تھی اور اس کے بعد ایران کے خلاف دوبارہ اقتصادی پابندیاں عاید کردی ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر بھی صدر حسن روحانی کو سخت گیروں کی تنقید کا سامنا ہے اور وہ انھیں مغرب کے ساتھ تعلقات ا ستوار کرنے پر بھی کڑی نکتہ چینی کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

مگر صدر روحانی سخت گیروں سے اختلافات میں کمی کے لیے کوشاں ہیں۔انھوں نے اس تقریر میں کہا کہ’’علماء ، مذہبی ادارے اور حکومت ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں‘‘۔ ساتھ ہی انھوں نے خبردار کیا ہے کہ ’’ سمندر میں اترنے والے کسی شخص کو یہ توقع نہیں کرنی چاہیے کہ اس کے پاؤں خشک رہیں گے‘‘۔

ایران میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کے باوجود صدر حسن روحانی کو سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی حمایت حاصل ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ملک میں مزید بد امنی سے بچنے کے لیے انھیں ہی اقتدار میں رہنا چاہیے۔تاہم انھوں نے حکومت ہی کو ملک میں جاری ابتری اور بد انتظامی کا ذمے دار قرار دیا تھا۔