.

امریکا عالمی عدالتِ انصاف میں ایران کے چیلنج کا بھرپور دفاع کرے گا: مائیک پومپیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا عالمی عدالتِ انصاف میں ایران کی جانب سے امریکی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کے خلاف چیلنج کا بھرپور دفاع کرے گا۔

یہ بات امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے سوموار کو ایک بیان میں کہی ہے۔ایران نے ہیگ میں قائم عالمی عدالتِ انصاف میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں عدالت سے امریکا کی یک طرفہ پابندیاں معطل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔امریکا نے تین ہفتے قبل ہی ایران کے خلاف ان نئی پابندیوں کا نفاذ کیا ہے۔

مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ ’’ ہم اس ہفتے ہیگ میں ایران کے بغیر میرٹ دعووں کا بھرپور دفاع کریں گے۔ایران کی جانب سے عالمی عدالت انصاف میں دائر کردہ درخواست دراصل امریکا کے قانونی کارروائی سے متعلق خود مختارانہ حقوق میں مداخلت کی ایک کوشش ہے۔ اس کے خلاف پابندیوں کا دوبارہ نفاذ ہماری قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’ایران کی جانب سے اس عدالت سے رجوع دراصل اس کا غلط استعمال ہے‘‘۔

ایران کے نمائندے محسن محبی نے ہیگ میں عدالت کے روبرو زبانی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا نے نئی پابندیاں نافذ کرکے دراصل ایرانی معیشت کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی ہے۔

پومپیو نے اس کے جواب میں کہا:’’ صدر ٹرمپ نے بالکل سادہ وجہ کی بنا پر مئی میں جولائی 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے ( مشترکہ جامع لائحہ عمل ) سے دستبرداری فیصلہ کیا تھا اور وہ یہ تھی کہ یہ سمجھوتا ایران کے لیڈروں کے پیدا کردہ خطرات سے امریکی عوام کو تحفظ مہیا کرنے کی ضمانت دینے میں ناکام رہا ہے‘‘۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے 6 اگست کو دوبارہ نافذ کردہ پابندیوں کے تحت ایران کو مالی رقوم کی منتقلی روک دی ہے۔اس کے علاوہ نئے خام مواد ، کاروں اور طیاروں کی ایران میں درآمد پر پابندی عاید کی گئی ہے۔ بعض اور قدغنیں بھی عاید کی گئی ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق ایران کے خلاف نومبر میں دوسرے مرحلے میں پابندیاں عاید کی جائیں گی اور ان کے تحت ایران کی تیل کی تجارت کو ہدف بنایا جائے گا۔