.

’’صدر پوتین اور طیب ایردوآن ادلب میں خونریزی سے بچاؤ کے لیے فوری بات چیت کریں‘‘

فوری مذاکرات سے خانہ جنگی کاشکار شام میں اب تک کی بڑی خونریز جنگ سے بچا جاسکتا ہے: اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی صدر ولاد ی میر پوتین اور ترک صدر رجب طیب ایردوآن شامی باغیوں کے زیر قبضہ شمال مغربی صوبے ادلب میں صورت حال کے حل کے لیے فوری طور پر بات چیت کریں ، تو خانہ جنگی کاشکار ملک میں اب تک کی سب سے بڑی خونریز جنگ سے بچا جاسکتا ہے۔

یہ بات شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹافن ڈی مستورا نے ایک بیان میں کہی ہے۔انھوں نے منگل کے روز جنیوا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روس اور ترکی کے درمیان بات چیت ادلب پر حملے کو رکوانے کے لیے اہمیت کی حامل ہے لیکن آج اس علاقے پر چھے فضائی حملوں سے لگتا ہے کہ انقرہ کی بات چیت کامیاب نہیں جا رہی ہے۔

میڈیا کی رپورٹس کے مطابق شام کی مسلح افواج ادلب کا گھیراؤ کررہی ہیں لیکن وہ شاید 10 ستمبر تک باغیوں کے خلاف بڑا حملہ نہ کریں اور مذاکرات کے نتیجے کا انتظار کریں۔اس دوران میں آیندہ جمعہ کو تہران میں ایران ، ترکی اور روس کا سربراہ اجلاس ہوگا جس میں ادلب کی صورت حال پر غور کیا جائے گا۔

لیکن اس سے قبل اسٹافن ڈی میستورا نے روسی صدر ولادی میر پوتین اور ترک صدر رجب طیب ایردوآن پر زور دیا ہے کہ وہ فون پر ایک دوسرے سے ادلب کی صورت حال پر بالضرور بات چیت کریں کیونکہ ’’اب وقت بہت اہمیت اختیار کر گیا ہے‘‘۔