.

سعودی منصوبے ’ ماسم‘ کے تحت یمن میں حوثیوں کی بچھائی 7 ہزاربارودی سرنگیں تلف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں بارودی سرنگو ں کی تلفی کے سعودی منصوبے ماسم کے تحت کام کرنے والی ٹیموں نے صرف 102 روز میں 7146 بارودی سرنگوں اور دھماکا خیز مواد کو ناکارہ بنا دیا ہے ۔

ماسم کی ایک رپورٹ کے مطابق اس کی ٹیموں نے یمنی صوبہ مآرب اور مغربی ساحل میں اکتوبر کے پہلے ہفتے میں 787 بارودی سرنگوں کو کامیابی سے تلف کردیا ہے۔ان میں 12 گاڑی شکن بارودی سرنگیں ، 478 مشین شکن بارودی سرنگیں ، 287 دھماکا خیز ڈیوائسز اور پھٹ نہ سکنے والے 10 بم شامل ہیں۔

ماسم کا منصوبہ سعودی عرب کے شاہ سلمان مرکز برائے انسانی امداد اور ریلیف کے چار کروڑ ڈالرز کی لاگت سے شروع کیے گئے امدادی پروگرام کا حصہ ہے۔اس کا مقصد گذشتہ بارہ ماہ کے دوران میں حوثی ملیشیا نے جن یمنی علاقوں میں بارودی سرنگیں بچھائی ہیں،انھیں تلف کرنا اور چار سو یمنی ماہرین کو بارودی سرنگیں ناکارہ بنانے کی تربیت دینا ہے۔

یمن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نگرانی کرنے والے اتحاد نے جنیوا میں اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے انتالیسویں اجلاس کے موقع پر ایک رپورٹ پیش کی ہے۔اس میں بتایا ہے کہ گذشتہ چار سال کے دوران میں حوثی ملیشیا کی بچھائی گئی بارودی سرنگوں اور بارودی آلات کے دھماکوں میں کم سے کم دوہزار یمنی شہری مارے جاچکے ہیں۔حوثیوں کے علاوہ یمن کے 19 صوبوں میں القاعدہ کے عناصر کی بچھائی گئی بارودی سرنگوں کے دھماکوں میں 906 افراد مارے گئے ہیں۔ان میں 133 بچے اور 60 خواتین شامل تھیں ۔

رپورٹ کے مطابق یمن کے سترہ صوبوں میں بارودی سرنگوں اور دوسرے بارودی آلات کے دھماکوں میں 1034 افراد زخمی ہوگئے تھے۔ ان میں 183 بچے اور 56 خواتین شامل تھیں ۔حوثیوں نے یہ بارودی سرنگیں 21 ستمبر 2014ء سے 30 جون 2018ء تک بچھائی تھیں۔