خاشقجی کا کیس 72 گھنٹے میں حل کیا جاسکتا ہے، مدد کو تیار ہیں: ضاحی خلفان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

دبئی کے سابق پولیس سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ضاحی خلفان نے لاپتا سعودی صحافی جمال خاشقجی کے واقعے کی تفصیل بے نقاب کرنے میں ناکامی پر ترک سکیورٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ یہ کیس صرف 72 گھنٹے میں حل کیا جاسکتا ہے۔

انھوں نے بدھ کے روز العربیہ سے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ’’آج کی کرائم سائنس سے نام نہاد نامعلوم کارروائی بالکل غیر متعلق ہو کر رہ گئی ہے۔آج پولیس فورسز جرم میں کارفرما عناصر کی نشان دہی اور تعیّن کے لیے جدید صلاحیتوں کی حامل ہیں‘‘۔

انھوں نے بتایا کہ ’’ سکیورٹی حکام نگرانی کے کیمروں کی فوٹیج کی مدد کے بغیر بھی جمال خاشقجی کی آخری جگہ کا سراغ لگا سکتے ہیں اور اس کا تعیّن کرسکتے ہیں۔تحقیق وتفتیش کی منطق یہ ہے کہ اس سے کسی نتیجے تک پہنچا جاسکتا ہے ، یہ نہیں کہ اس سے ابہام جنم لے اور صورت حال مزید پیچیدہ ہوجائے۔‘‘

انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ استنبول میں ایک ہفتہ قبل لاپتا ہونے والے جمال خاشقجی کا معاملہ 72 گھنٹے سے بھی کم وقت میں طے کیا جاسکتا ہے ۔البتہ جب تک لاپتا شخص کی نعش نہیں مل جاتی،اس وقت تک تو اس کی موت کے بارے میں بات بھی نہیں کی جاسکتی ہے اور یہ گم شدگی کا ایک کیس ہی رہے گا۔

لیفٹیننٹ جنرل ضاحی خلفان نے جمال خاشقجی کے اغوا میں کارفرما شخص کا سراغ لگانے کے لیے ترک حکام کو مدد کی بھی پیش کش کی ہے۔انھوں نے اس ضمن میں دبئی میں ایک ہوٹل میں فلسطینی تنظیم حماس کے رہ نما محمود المبحوح کے 2010ء میں قتل کا حوالہ دیا ہے۔ دبئی پولیس نے 72 گھنٹے میں ان کے قاتلوں کا سراغ لگا لیا تھا اورا سرائیل کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی ’’ موساد‘‘ کے ایجنٹوں کو قتل کے اس واقعے کا ذمے دار قرار دیا تھا۔

انھوں نے سوال کیا کہ ’’ کیا خاشقجی کی گم شدگی موساد کی کارروائیوں سے بھی زیادہ پیچیدہ کارروائی تھی؟ ہم نے محمود المبحوح کے قتل میں ملوث تمام افراد کی 72 گھنٹے میں تفصیل جاری کردی تھی۔اس لیے کسی بھی پیچیدہ مسئلے کے حل میں اس سے زیادہ وقت نہیں لگنا چاہیے‘‘۔

قبل ازیں انھوں نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ’’ہم ترکی میں جمال خاشقجی کے اغواکار کا سراغ لگانے میں مدد دے سکتے ہیں۔موساد کی کارروائی کے ذمے داروں کا سراغ لگانے میں ہمارے تجربے سے یہ بات ثابت ہو گئی تھی کہ ہم 48 گھنٹے میں سچ کو منظرعام پر لانے میں کامیاب ہوگئے تھے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں