امریکا کی سعودی عرب کو ترکی میں لاپتا جمال خاشقجی کی تلاش کے لیے مدد کی پیش کش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی نائب صدر مائیک پنس نے کہا ہے کہ سعودی عرب چاہے تو امریکا ترکی میں معروف صحافی جمال خاشقجی کی گم شدگی کے واقعے کی تحقیقات میں کسی بھی طریقے سے مدد دینے کو تیار ہے۔

ان سے ایک ریڈیو پروگرام کے دوران میں یہ سوال کیا گیا تھا کہ اگر سعودی عرب درخواست کرتا ہے تو کیا امریکا ایف بی آئی کے تحقیقات کاروں کو اس معاملے کی تفتیش کے لیے ترکی بھیجے گا۔انھوں نے اس کے جواب میں کہا:’’میرے خیال میں ریاست ہائے متحدہ امریکا کسی بھی طریقے سے مدد دینے کو تیار ہے‘‘۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز کہا تھا کہ وہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے لاپتا ہونے کے بارےمیں کچھ نہیں جانتے ہیں۔ دوسری جانب ترکی کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب نے گذشتہ ہفتے استنبول میں لاپتا ہونے والے صحافی کے کیس کی تحقیقات میں ہر طرح کی مدد اور تعاون فراہم کیا ہے۔

سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان نے بلومبرگ کے ساتھ گذشتہ جمعہ کو شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ’’ جمال خاشقجی استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں نہیں تھے اور وہ ترک حکام کو قونصل خانے کی تلاشی کی اجازت دینے کو تیار ہیں حالانکہ وہ خود مختاری کی حامل جگہ ہے لیکن ہم نے کچھ بھی نہیں چھپایا ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں