.

طالبان شدت پسندوں اور قطر کے باہمی تعلقات ایک بار پھر منظرعام پر!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں سرگرم شدت پسند گروپ تحریک طالبان اور قطری حکومت کے درمیان تعلقات کوئی نئی بات نہیں۔ دوحہ اور طالبان کے درمیان تعلقات ایک بار پھر منظرعام پرآئے ہیں جس نے دوحہ کی دہشت گردی کے خلاف پالیسی پر کئی سوال اٹھ رہے ہیں۔ قطر پہلے ہی مشرق وسطیٰ، افریقا اور دنیا کے بعض دوسرے علاقوں میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث گروپوں کےساتھ تعلقات کی وجہ سے کافی بدنام ہوچکا ہے۔ ان میں زیادہ تر گروپوں کا فکری تعلق عرب ممالک میں کالعدم قرار دی گئی "اخوان المسلمون" کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔

ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق حال ہی میں دوحہ میں طالبان کے ایک وفد نے امریکی مصالحتی ایلچی زلمے خلیل زیاد کی قیادت میں امریکی وفد سے ملاقات کی۔

بہ ظاہراس ملاقات ک امقصد شورش زدہ ملک افغانستان میں‌ قیام امن کی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے مگراس نے طالبان اور قطر کے درمیان باہمی تعلقات کا ایک بار پھر بھاندہ پھوڑ دیا ہے۔ قطر واحد ملک ہے جس نے طالبان کو اپنی سرزمین پر اپنا سیاسی دفتر قائم کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔

قطر کی طرف سے آج تک تحریک طالبان کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کی مذمت نہیں کی گئی اور نہ ہی اس تنظیم کو دہشت گرد قرار دیا۔

"وکی لیکس" کی رپورٹ کے مطابق صومالیہ کی الشباب موومنٹ کو قطری انٹیلی جنس کی جانب سے براہ راست مالی معاونت ملتی رہی ہے۔ یہ معاونت انسانی امدادی پروگراموں کی آڑ میں دی گئی۔

سنہ 2017ء میں انکشاف ہوا کہ قطر نے عراق میں سنہ 2015ء سے یرغمال بنائے گئے قطری شہریوں کی رہائی کے بدلے القاعدہ جنگجوئوں کو ایک ارب ڈالر کا تاوان ادا کیا تھا۔ دوسرے الفاظ میں یہ خطیر رقم القاعدہ اور اس کے حامی گروپوں کو امداد کے طور پر ادا کی گئی۔

لیبیا کی فوج نےدو ماہ قبل دعویٰ کیا کہ اسے ایسے ٹھوس دستاویزی ثبوت ملے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ طرابلس پر قبضہ کرنے والے دہشت گرد عناصر کو قطر کی طرف سے 30 ملین یورو کی خطیر رقم پیش کی گئی تھی۔

شام میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں سرگرم گروپوں کے ساتھ بھی دوحہ کے تعلقات کا انکشاف ہوچکا ہے۔ فلسطینی تنظیم حماس اور مصر میں اخوان المسلمون کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے والے گروپوں کو بھی قطر کی طرف سے بلا تعطل امداد فراہم کی جاتی ہے۔