.

طارق رمضان کا دو مدّعی خواتین کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الاخوان المسلمون تنظیم کے بانی حسن البنا کے نواسے مصری نژاد سوئس پروفیسر طارق رمضان نے کئی ماہ تک انکار کے بعد آخرکار دو خواتین کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے کا اعتراف کر لیا ہے۔ ان دونوں خواتین نے طارق پر جنسی حملے کا الزام عائد کیا تھا۔

فرانسیسی میڈیا کے مطابق طارق کے وکیل امانوئل مارسینی نے پیرس میں جاری مقدمے کی سماعت کے بعد بتایا کہ ان کے مؤکل اور دونوں خواتین کے درمیان ٹیکسٹ میسجز سے ثابت ہو گیا ہے کہ جنسی تعلقات فریقین کی خواہش اور مرضی سے قائم ہوئے۔ مارسینی کے مطابق خواتین کی طرف سے غلط بیانی پر مبنی اطلاع کے الزام میں پٹیشن دائر کی جائے گی۔

دوسری جانب مذکورہ دونوں خواتین میں سے ایک کے وکیل اریک مورین کا کہنا ہے کہ "گزشتہ 11 ماہ سے طارق جھوٹ بول رہے تھے۔ آج وہ خود کو ہیرو کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ یہ ایک غیر سنجیدہ امر ہے"۔

گزشتہ ماہ ستمبر میں کرسٹل (الزام عائد کرنے والی خواتین میں سے ایک کا فرضی نام) کے موبائل فون میں سیکڑوں ایس ایم ایس پیغامات کے انکشاف کے بعد 56 سالہ طارق رمضان اعتراف پر مجبور ہو گئے۔

طارق نے 18 ستمبر کو ہونے والی سماعت کے دوران صرف "ورغلانے" کا اعتراف کیا تھا۔ تاہم اگلے ہفتے ہی ماہرین کی جانب سے 399 ایس ایم ایس پیغامات کا انکشاف کیا گیا۔ یہ پیغامات 2009ء میں 31 اگست سے 15 دسمبر کے درمیان ایک دوسرے کو بھیجے گئے تھے اور ان سے دونوں افراد کے درمیان قریبی تعلق سامنے آیا ہے۔

کرسٹل نے طارق پر الزام لگایا ہے کہ معروف اسکالر نے 9 اکتوبر 2009ء کو فرانس کے شہر بلیون میں ہونے والی واحد ملاقات کے دوران اس کو عصمت دری کا نشانہ بنایا۔ خاتون نے اکتوبر 2017ء کو مقدمہ دائر کیا تھا۔

مذکورہ دو خواتین کے علاوہ ایک تیسری خاتون نے رواں سال مارچ میں دعوی کیا تھا کہ طارق نے اُسے 2013ء سے 2014ء کے درمیان فرانس، لندن اور برسلز میں 9 بار عصمت دری کا نشانہ بنایا۔

علاوہ ازیں ایک چوتھی خاتون نے بھی رواں سال اپریل میں طارق کے خلاف الزام عائد کیا کہ معروف اسکالر نے اُسے جنیوا میں جنسی حملے کا نشانہ بنایا۔