تیونس میں خودکش بم دھماکا کرنے والی عورت بے روزگار گریجوایٹ تھی!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

تیونس کے دارالحکومت میں ایک مصروف شاہراہ پر سوموار کے روز خودکو دھماکے سے اڑانے والی عورت ایک بے روز گار گریجوایٹ تھی۔

تیونسی حکام نے اس کی شناخت منا جوئبلہ کے نام سے کی ہے اور اس کی عمر تیس سال تھی۔اس نے دارالحکومت تیونس کی مصروف شاہراہ حبیب بو رقیبہ پر کھڑی پولیس کی کاروں کے نزدیک خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا ، جس کے نتیجے میں پندرہ پولیس افسر اور دو راہ گیر زخمی ہوگئے تھے۔ شہر میں 2015ء کے بعد اس طرح کا یہ پہلا بم حملہ تھا۔

اس خودکش بمبار کا تعلق تیونس کے مشرقی علاقے المہدیہ سے تھا ۔ تیونس کے محکمہ پراسیکیوشن کے ترجمان سفیان السلیتی نے بتایا ہے کہ وہ بزنس انگلش میں گریجو ایٹ تھی۔تیونسی میڈیا کے مطابق وہ بے روزگار تھی اور بعض اوقات اپنے خاندان کا ہاتھ بٹانے کے لیے بھیڑ بکریاں چُرایا کرتی تھی۔

ترجمان سلیتی کا کہنا تھا کہ حکام نے جوئبلہ کی ماضی میں انتہا پسندی کی جانب مائل ہونے کی شناخت نہیں کی تھی۔اس کے بم حملے کے الزام میں کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ بم دھماکے میں کوئی شخص شدید زخمی نہیں ہوا تھا۔

واضح رہے کہ سابق مطلق العنان صدر زین العابدین بن علی کی حکومت کے خاتمے کے آٹھ سال کے بعد بھی تیونس کی معیشت اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہوسکی ہے اور ملک کے نوجوان گریجوایٹس کی ایک تہائی تعداد بے روز گار ہے۔ان ہی نوجوانوں نے 2011ء کے اوائل میں بن علی کی حکومت کے خلاف عرب بہار کے نام سے احتجاجی تحریک برپا کی تھی اور چند ہی روز میں بن علی اقتدار چھوڑ کر ملک سے راہ فرار اختیار کرگئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں